واشنگٹن(کیو این این ورلڈ) وائٹ ہاؤس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں پاکستان کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کا اگلا دور ہوا تو اس کے لیے اسلام آباد ہی متوقع مقام ہوگا، کیونکہ پاکستان اس معاملے میں واحد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک ہنگامی میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت میں پاکستان نے نہایت مؤثر اور مثبت کردار ادا کیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امریکا اس سفارتی عمل کو پاکستان کے ذریعے آگے بڑھانے کو ترجیح دے رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اطلاعات درست نہیں کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں باضابطہ توسیع کی درخواست کی ہے، تاہم یہ ضرور ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور اب تک کی پیشرفت تعمیری اور حوصلہ افزا رہی ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ دنیا کے کئی ممالک نے اس معاملے میں ثالثی کی پیشکش کی، مگر امریکی قیادت کا مؤقف ہے کہ رابطے کو سادہ اور مؤثر رکھنے کے لیے پاکستان کے ذریعے ہی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔ ان کے مطابق اس وقت بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پاکستان ہی واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک اور سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر کے مطالبات ایران کے سامنے واضح طور پر رکھے جا چکے ہیں، اور ان پر عمل درآمد ایران کے اپنے مفاد میں ہے۔
براہ راست (ون آن ون) مذاکرات سے متعلق سوال پر انہوں نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم کسی بھی پیش رفت کا باضابطہ اعلان ہونے تک کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔