گوجرہ (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار چوہدری عبد الرحمن جٹ) مریم نواز ہیلتھ کلینک چک نمبر 418 ج ب میں طبی سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کی مبینہ عدم دستیابی کے باعث نومولود بچے کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آگیا۔ متاثرہ شہری کی درخواست پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چک نمبر 418 ج ب کے رہائشی محسن وارث نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کو ڈلیوری کے لیے مریم نواز ہیلتھ کلینک چک نمبر 418 ج ب لے کر گیا، جہاں اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔
درخواست گزار کے مطابق کلینک میں تجربہ کار اور تربیت یافتہ عملہ موجود نہ ہونے کے باعث پیدائش کے بعد اس کی اہلیہ اور نومولود کی طبیعت خراب ہوگئی۔ بچے کو آکسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور حالت بگڑنے لگی، تاہم کلینک میں مناسب آکسیجن اور ضروری طبی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بچے کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی۔
محسن وارث کے مطابق نومولود کو تشویشناک حالت میں چلڈرن ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ بعد ازاں دم توڑ گیا۔ درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اس کی اہلیہ بھی واقعے کے باعث شدید جسمانی اور ذہنی صدمے کا شکار ہے اور ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ کلینک کے عملے اور ان کے مبینہ حواریوں کی جانب سے متاثرہ خاندان پر کارروائی سے باز رہنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
متاثرہ شہری کی درخواست پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ واقعے کی اصل وجوہات اور طبی غفلت کے تعین کے لیے متعلقہ اداروں کی تحقیقات کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔