لاہور (کیو این این ورلڈ):ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے معاملے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سے دوبارہ رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی پاکستان کو آمادہ کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے، جن میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی شریک تھے۔ یہ مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہے، جن میں پاکستان کی جانب سے بنیادی طور پر بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر زور دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے آئی سی سی کو آگاہ کیا کہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومتِ پاکستان کا ہے اور اس حوالے سے حتمی اختیار بھی حکومت ہی کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی اس معاملے میں حکومتی فیصلے کا پابند ہے۔
ملاقات کے دوران بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے پاکستان کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان تجاویز کا تبادلہ ہوا، جبکہ پی سی بی نے رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔ آئی سی سی کی جانب سے بنگلا دیش کے مطالبات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے ایک فارمولہ بھی تیار کر لیا گیا ہے، جس کی حتمی منظوری کے لیے عمران خواجہ واپس روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ امین الاسلام بھی اپنی حکومت کو بریفنگ دینے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ باہمی فارمولے پر ابتدائی اتفاق کے بعد آج دوپہر آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان دوبارہ رابطہ متوقع ہے، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاملے پر بڑی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ایک سے دو روز میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے بنگلا دیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔ بنگلا دیش نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں اپنے میچز کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا اور بعد ازاں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے ردعمل میں پاکستان نے 15 فروری کو شیڈولڈ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا۔
ذرائع کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ میچ نہیں ہوتا تو آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی تناظر میں سری لنکا اور اماراتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کی ہے، جبکہ اماراتی کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے پی سی بی سے باضابطہ رابطہ کرتے ہوئے 15 فروری کے میچ سے متعلق فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر زور دیا ہے۔