ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار احسان اللہ ایاز) واسا کی مبینہ غفلت اور ناقص حکمت عملی کے باعث ننکانہ صاحب شہر میں سیوریج کا بحران بے قابو ہو گیا ہے، متعدد علاقے کئی روز سے گندے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں گلی باغ والی، گلی بوٹا کریانہ والی، محلہ کیارہ صاحب، گلی گوردوارہ کیارہ صاحب والی، لاہور موڑ، کنیڈا کالونی، گلی ریلوے اسٹیشن والی اور گلی بوٹا ڈوگر والی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں جہاں سیوریج کا پانی کھڑا ہونے سے شدید بدبو اور تعفن پھیل چکا ہے۔ مقامی مکینوں کے مطابق گھروں میں رہنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ آمدورفت، کاروبار اور روزمرہ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری سیوریج میگا منصوبے کے باوجود متبادل نکاسی آب کا کوئی مؤثر بندوبست نہیں کیا گیا، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق واسا کی مبینہ لاپرواہی، ناقص پلاننگ اور بروقت اقدامات نہ کرنے سے یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ٹیکنیکل ماہرین کے مطابق کسی بھی بڑے سیوریج منصوبے کے دوران ٹیمپریری ڈرینیج پلان، یوٹیلٹی مینجمنٹ اور ڈی واٹرنگ جیسے اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ یا تو ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا یا منصوبہ بندی ہی ناقص تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کے متبادل انتظامات نہ ہونے، ڈھلوان کی کمی، پمپنگ سسٹم کی خرابی اور سسٹم پر اضافی دباؤ بھی پانی کھڑا ہونے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں بروقت بائی پاس لائنز اور ایمرجنسی نکاسی کے انتظامات نہ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، جس کے باعث نہ صرف شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ سڑکوں، عمارتوں اور زیر زمین انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ واسا کا انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے، کنٹریکٹر اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کر رہا اور نیسپاک بطور کنسلٹنٹ اپنی نگرانی کا کردار مؤثر انداز میں ادا کر رہا ہے یا نہیں۔
متاثرہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا بندوبست کیا جائے، متاثرہ علاقوں میں صفائی اور جراثیم کش اقدامات کیے جائیں اور منصوبے کی شفاف تکنیکی انکوائری کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔