صحت کے نام پر کھلواڑ: بچیکی میں سیل لیبارٹری کھلنے پر محکمہ صحت کٹہرے میں

ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز ) ضلعی محکمہ صحت ننکانہ صاحب کی ابتر صورتحال اور انتظامی لاپروائی ایک بار پھر سنگین سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ نواحی قصبہ بچیکی میں واقع ’اسٹینڈرڈ کلینک لیب‘ کے مشکوک معاملے نے صحت کے ضلعی نظام، حکام کی کارکردگی اور محکمانہ عملدرآمد کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ لیبارٹری کو تقریباً دو ہفتے قبل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حسن افتخار نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) کی رجسٹریشن نہ ہونے اور موقع پر مجاز تکنیکی فرد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر سیل کیا تھا۔ تاہم کارروائی کے محض چند ہی روز بعد یہ غیر قانونی لیبارٹری پراسرار طور پر دوبارہ فعال ہو گئی اور اس میں باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا۔

معاملہ اس وقت مزید تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا جب 22 ستمبر کو لیبارٹری کے مالک کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر تو درج کر لی گئی، مگر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگلے ہی روز بھی لیبارٹری حسبِ معمول کھلی رہی۔ اس صورتحال نے یہ بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر سرکاری کارروائی کو کس کے ایماء پر غیر مؤثر بنایا گیا؟

ذرائع کی جانب سے لیبارٹری کو دوبارہ کھلوانے کے پیچھے مبینہ طور پر بھاری رشوت اور شدید ساز باز کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی مستقل اور آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے، لیکن اگر یہ دعوے سچ ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض ایک لیبارٹری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے محکمہ صحت کا ایک بڑا ناکامی و بدعنوانی کا کیس بن جائے گا۔

اس معاملے پر بنیادی قانونی و انتظامی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ اگر لیبارٹری سیل کی گئی تھی تو اسے ڈی سیل کرنے کا حکم کس نے اور کس قانون کے تحت دیا؟ کیا ڈی سیلنگ سے پہلے ہیلتھ کیئر کمیشن کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ اور اگر تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے تو یہ سیل شدہ دکان کس کی پشت پناہی پر کھل سکی؟

یہ پوری صورتحال ضلعی محکمہ صحت کے سابقہ انتظامی دور اور بالخصوص ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حسن افتخار کے تحرکات پر بھی انگلیاں اٹھا رہی ہے۔ تاہم کسی بھی افسر یا اہلکار پر عائد الزامات کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف ایک اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور سرکاری ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

نئے تعینات ہونے والے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ساریہ بن نسیم خان کے لیے انتظامی چارج سنبھالتے ہی یہ اسکینڈل ایک زبردست امتحانی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ علاقہ مکینوں اور شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد رعنا حمید اور سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ساریہ بن نسیم خان سے اس گھپلے کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلنگ میمو، انسپیکشن رپورٹ، ڈی سیلنگ کے احکامات، پی ایچ سی رجسٹریشن، کوالیفائیڈ عملے کی موجودگی اور درج کی گئی ایف آئی آر سمیت تمام متعلقہ دستاویزات کا فوری فورنسک جائزہ لیا جائے اور اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت یا رشوت میں ملوث تمام عناصر کا تعین کر کے ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے