اوچ شریف (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار حبیب خان) بین الاقوامی فلاحی تنظیم ‘مسلم ہیلفن’ کے وفد نے جرمنی سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی رہنما کاشفہ بٹ کی قیادت میں اوچ شریف کی نواحی اور سیلاب سے شدید متاثرہ بستی عبد اللہ خان بھگلہ کا اہم دورہ کیا۔ اس موقع پر وفد کے ہمراہ پبلک سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے سربراہ ملک ریاض احمد کھوکر، ممتاز سماجی رہنما ملک شبیر ارائیں، حافظ کلیم اللہ اور علاقے کے دیگر معززین بھی موجود تھے۔ وفد نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور ان کے درپیش مسائل، بنیادی ضروریات اور بحالی کے لیے جاری اقدامات کا موقع پر جائزہ لیا۔
دورے کے دوران علاقے میں تعلیم، صحت، صاف پانی کی فراہمی، یتیم بچوں کی کفالت، خواتین کی فلاح و بہبود اور معاشی بحالی سے متعلق مستقبل کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس دورے کا سب سے اہم مرکز بستی میں مسلم ہیلفن کے مالی و تکنیکی تعاون سے قائم کیے گئے نئے اسکول کا باقاعدہ افتتاح تھا، جہاں معزز مہمانوں نے بچوں میں کتابیں، کاپیاں، پنسلیں اور دیگر ضروری تدریسی سامان تقسیم کیا تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بغیر کسی تعطل کے دوبارہ جاری رہ سکے۔
بین الاقوامی وفد نے بستی کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ بھی کیا اور وہاں موجود مستحق افراد اور معصوم بچوں میں جوس، بسکٹ اور دیگر اشیائے خور و نوش تقسیم کیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سماجی رہنما ملک شبیر ارائیں اور حافظ کلیم اللہ نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ یہ دور آفتادہ علاقے آج بھی بنیادی ترین سہولیات سے محروم ہیں، اور ایسے کٹھن حالات میں بین الاقوامی فلاحی اداروں کا آگے بڑھ کر ہاتھ تھامنا مقامی آبادی کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ انہوں نے مسلم ہیلفن اور پبلک سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی مخلصانہ خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان تعلیمی اور فلاحی منصوبوں سے نہ صرف بچوں کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع میسر آئیں گے بلکہ متاثرہ خاندانوں کی مستقل بحالی، خود کفالت اور سماجی ترقی میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔
اس سے قبل بستی عبد اللہ خان بھگلہ آمد پر مقامی مکینوں نے جرمن وفد اور دیگر مہمانوں کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا، انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور علاقے میں تعلیمی و فلاحی خدمات کا آغاز کرنے پر مسلم ہیلفن کے نمائندگان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ وفد کے ارکان نے بستی کے لوگوں کے جذبے کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ علاقے کی پسماندگی اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں مزید فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر بہت جلد عملی کام شروع کیا جائے گا تاکہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو مستقل بنیادوں پر پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔
