میہڑ میں دو الگ واقعات، فائرنگ سے زخمی اور جبری گمشدگی کے خلاف مظاہرہ

میہڑ (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار منظور علی جوئیہ): ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں ملکیت کے تنازعے پر کھوسہ برادری کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا جس میں فائرنگ کی گئی۔ گولی لگنے سے ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ اسی روز میہڑ پریس کلب کے سامنے سندھ شاگرد سبھا نے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے قومی کارکنوں کی آزادی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

تفصیلات کے مطابق اے سیکشن پولیس تھانے کی حدود میں قاضی عارف سٹاپ پر ملکیت کے تنازعے پر کھوسہ برادری کے دو فریقین میں جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے دوران فائرنگ ہوئی جس میں محبوب کھوسو شدید زخمی ہو گیا۔ مقامی افراد نے زخمی کو تشویشناک حالت میں علاج کے لیے تحصیل ہسپتال میہڑ پہنچایا۔ ڈاکٹروں نے طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے اسے لاڑکانہ ہسپتال منتقل کر دیا۔ ملزمان فائرنگ کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

دوسری جانب میہڑ پریس کلب کے سامنے سندھ شاگرد سبھا کے کارکنوں نے سندھ سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے قومی کارکنوں اور طلباء کی آزادی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ سندھ سے جبری طور پر گم کیے گئے قومی کارکنوں کی گمشدگی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ مظاہرین نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ گم شدہ کارکنوں کی آزادی کے لیے مدد کریں اور یاسر لاشاری، آصف چاچڑ، دانیال جاگیرانی، حنیف ہالو، روحل لغاری، ببلو برفت سمیت تمام طلباء اور قومی کارکنوں کو جلد از جلد آزاد کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے