فرید آباد میں پولیس مقابلہ، ایک ہلاکت اور دو گرفتاریاں؛ سمیر چانڈیو کے ورثاء کا جعلی مقابلے کا الزام

میہڑ (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار منظور علی جوئیہ) میہڑ کے قریب گاؤں علی خان بگھیو موڑ پر فرید آباد پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو ہلاک جبکہ دو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقابلے کے دوران دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق فرید آباد گشتی پولیس کا گاؤں علی خان بگھیو موڑ کے قریب ڈاکوؤں سے آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران ایک ڈاکو ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، جنہیں پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ ہلاک اور زخمی ملزمان کو تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد فرید آباد گشتی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید پولیس نفری روانہ کر دی گئی۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب فرید آباد کے قریب سوجھرو میرواڻی میں گزشتہ رات مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان سمیر عرف حبدار چانڈیو کے ورثاء نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فرید آباد چھڈن پل پر لاش رکھ کر دھرنا دے دیا۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

گاؤں سیدپور کے رہائشی مقتول سمیر چانڈیو کے ورثاء کا الزام ہے کہ پولیس نے سمیر اور اس کے چچا زاد بھائی آصف چانڈیو کو حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلہ ظاہر کرکے سمیر کو قتل کیا، جبکہ آصف چانڈیو کے خلاف بھی پولیس مقابلے کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

مقتول کے بھائی حسین علی چانڈیو، عبدالنبی چانڈیو، الطاف چانڈیو اور دیگر ورثاء نے احتجاج کے دوران اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور وہ واقعے کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ فرید آباد پولیس نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ پولیس مقابلے میں نوجوان سمیر چانڈیو کو ہلاک، ذوالفقار سہاگ کو زخمی حالت میں گرفتار اور آصف چانڈیو کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے دو پستول، ایک کلاشنکوف اور ایک موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ایک جانب پولیس مقابلے اور گرفتاریوں سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ دوسری جانب مقتول کے ورثاء نے مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات اور متعلقہ شواہد کی جانچ کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آسکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے