میہڑ (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار منظور علی جوئیہ) میہڑ کے نواحی گاؤں شمس الدین بلبل کی رہائشی چانڈیہ برادری نے آبائی زرعی زمین پر قبضے اور مبینہ فائرنگ کے خلاف میہڑ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے انصاف اور زمین واگزار کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج میں محرم علی، زاہد حسین، لیاقت، شاہد، مشتاق، سجاد الدین چانڈیو اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کی دیہہ واہ گاہی میں ان کی 6 جریب زرعی زمین موجود ہے جو ان کے دادا امان اللہ کے نام پر ہے۔ ان کے مطابق یہ زمین انہوں نے اپنے چچا گلاب کو دی تھی، جن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ چچا گلاب کی وفات کے بعد ان کے ہاری نظام چانڈیو اور دیگر افراد، جن میں ندیم علی، حسن، خالد، سہراب اور خلیل شامل ہیں، نے ان کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب وہ اپنی زمین پر فصل کی چھٹائی کے لیے گئے تو مذکورہ افراد نے ان پر فائرنگ کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
چانڈیا برادری کے افراد نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں ذوالفقار اور غلام علی بھی مخالفین کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جبکہ زمین کی ملکیت سے متعلق ریکارڈ اور دستاویزات بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
مظاہرین نے میہڑ اے سیکشن تھانے کی پولیس پر بھی عدم تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ شکایت لے کر تھانے پہنچے تو بڑے منشی رفیق چانڈیو نے انہیں مبینہ طور پر کہا کہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا اور وہ واپس چلے جائیں، کیونکہ مخالف فریق ان کے خلاف این سی درج کرا چکا ہے، جبکہ ان کی درخواست پر این سی درج نہیں کی جائے گی۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے ان کی شکایات پر کارروائی نہ ہونے کے باعث وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انہیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری مخالف فریق اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
چانڈیا برادری نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی دادو سے مطالبہ کیا کہ زمین پر قبضے اور فائرنگ کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، نظام چانڈیو سمیت نامزد افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کی آبائی زرعی زمین سے قبضہ ختم کرا کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔