میہڑ (کیو این این ورلڈ۔/ نامہ نگار منظور علی جوئیہ) میہڑ میں پرانی دشمنی پر کھوسہ برادری کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑے اور فائرنگ کے نتیجے میں 10 سالہ معصوم بچی عارفہ کولاچی جاں بحق ہو گئی۔ واقعے کے خلاف ورثاء اور اہلِ علاقہ نے انڈس ہائی وے پر بچی کی لاش رکھ کر دھرنا دے دیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا، جس کے باعث کراچی اور سکھر کے درمیان آنے جانے والی سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق میہڑ بی سیکشن پولیس تھانے کی حدود میں واقع گاؤں کولاچی میں کھوسہ برادری کے دو گروپوں، انب کوسو اور لونگ کھوسو کے درمیان پرانی دشمنی پر جھگڑا ہوا، جس کے دوران فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر گاؤں فیض محمد کولاچی کی رہائشی 10 سالہ عارفہ دختر عبدالستار کولاچی گولیاں لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ بچی شادی کی خوشی میں شرکت کے لیے وہاں آئی ہوئی تھی۔
واقعے کے بعد بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کی گئی، جہاں ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ دوسری جانب فائرنگ میں ملوث ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہو سکا تھا۔
معصوم بچی کے قتل کے خلاف ورثاء اور علاقہ مکینوں نے انڈس ہائی وے پر کولاچی موڑ کے مقام پر احتجاج شروع کر دیا اور لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ عارفہ کو قتل کرنے والے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دھرنے کے باعث انڈس ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور کراچی و سکھر کے درمیان سفر کرنے والی سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔ گاڑیوں کی طویل قطاروں کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاع ملنے پر بی سیکشن پولیس موقع پر پہنچ گئی۔
مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ بچی کے قتل کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔