ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ بیوروچیف احسان اللہ ایاز) ضلع ننکانہ صاحب کے محکمہ صحت میں پی او ایل (پیٹرول، آئل اینڈ لبریکینٹس) فنڈ کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جہاں ایک سال کے دوران 24 ہزار 480 لیٹر پیٹرول کے استعمال اور لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کے واجبات کی عدم ادائیگی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ذرائع نے اس معاملے پر سیکرٹری سطح کی انکوائری اور خصوصی آڈٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کے آئی آر ایم این سی ایچ اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے تحت ضلع بھر میں 26 لیڈی ہیلتھ سپروائزرز (LHS) خدمات انجام دے رہی ہیں، جن میں سے 17 سپروائزرز کو سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ محکمہ کی پالیسی کے مطابق ہر گاڑی کے لیے ماہانہ 120 لیٹر پیٹرول مختص کیا گیا ہے۔ اس حساب سے 17 گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 2 ہزار 40 لیٹر جبکہ مالی سال یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک مجموعی طور پر 24 ہزار 480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کے چھ ماہ کے پی او ایل واجبات کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ بل تیار کیے جا چکے تھے اور متعلقہ انتظامی کارروائی بھی مکمل کر لی گئی تھی، تاہم جون 2026 کے اختتام سے چند روز قبل یہ بل مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے واپس کر دیے گئے کہ بجٹ دستیاب نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث فیلڈ میں کام کرنے والی متعدد لیڈی ہیلتھ سپروائزرز تاحال اپنے واجبات کی ادائیگی کی منتظر ہیں، حالانکہ وہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی اور حکومتی پروگراموں کی نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ننکانہ صاحب ڈاکٹر روحیل اختر چوہدری نے یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کی تعیناتی کے عرصے سے متعلق واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ ڈاکٹر عبید حسین کی مبینہ انتظامی غفلت، مؤثر نگرانی کے فقدان اور بروقت اقدامات نہ کرنے کے باعث یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ ذرائع کے مطابق اگر فنڈز کے اجرا اور واجبات کی ادائیگی کے لیے بروقت متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جاتا تو فیلڈ عملہ اپنے جائز حق سے محروم نہ رہتا۔
ضلعی محکمہ صحت کے ذرائع نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر صحت پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب، پروگرام ڈائریکٹر آئی آر ایم این سی ایچ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی سیکرٹری سطح پر غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے، خصوصی آڈٹ کرایا جائے اور ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
ذرائع نے بالخصوص ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے اپیل کی ہے کہ وہ ضلع کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے فوری نوٹس لیتے ہوئے پی او ایل فنڈ سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کریں، شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اگر کسی قسم کی مالی یا انتظامی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ معاملہ اب ایک اہم سوال کو جنم دے رہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 24 ہزار 480 لیٹر پیٹرول کی مد میں مختص فنڈز اور ان کے استعمال کا مکمل حساب کتاب کہاں ہے، اور اگر واجبات ادا نہیں ہوئے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ عوامی اور محکمانہ حلقوں کی نظریں اب متعلقہ حکام کی جانب سے ہونے والی ممکنہ تحقیقات اور اقدامات پر مرکوز ہیں
نوٹ: اگر اس خبر سے متعلق متعلقہ حکام یا نامزد افسران اپنا مؤقف دینا چاہیں تو کیو این این ورلڈ صحافتی اصولوں اور غیر جانبداری کے تقاضوں کے مطابق اسی اہتمام کے ساتھ ان کا مؤقف بھی شائع کرے گا۔