روزنامہ کسوٹی کی بندش تبدیلی سرکار کی صحافتی پالیسی پر سوالیہ نشان، اشتہارات بحال نہ ہوئے تو ملک گیر احتجاج کریں گے، ضیاءالحق سرحدی

پشاور (کیو این این ورلڈ): اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ضیاءالحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تبدیلی سرکار نے اخبارات کے اشتہارات بند کرکے صحافتی کارکنوں سے روزگار اور باعزت زندگی گزارنے کا حق چھین لیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اخبارات کے اشتہارات بحال نہ کیے تو ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔

ضیاءالحق سرحدی نے مشہور و معروف روزنامہ کسوٹی کی بندش کو لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی اخبار کا خاموش ہو جانا محض چند صفحات کی اشاعت رکنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے وابستہ صحافیوں، کالم نگاروں، قلم کاروں اور دیگر ملازمین کے معاشی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اخبار کی بندش سے متاثر ہونے والے کارکنوں کے خاندانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہیے کہ ان ملازمین کا کیا قصور ہے جن کی روزی روٹی اسی صحافتی ادارے سے وابستہ تھی؟ ان کی برسوں کی محنت، پیشہ ورانہ وابستگی اور خاندانوں کی کفالت کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اخبارات محض خبریں شائع کرنے والے ادارے نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کی آواز، عوامی مسائل کے ترجمان اور تاریخ کے گواہ بھی ہوتے ہیں۔ ایسے اداروں کو مالی مشکلات سے دوچار کرنا بالواسطہ طور پر ان سے وابستہ کارکنوں کے روزگار کو متاثر کرتا ہے۔

ضیاءالحق سرحدی نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری عوامی مسائل حل کرنا اور روزگار کے مواقع کا تحفظ ہے، لیکن اخبارات کے اشتہارات کی بندش نے صحافتی اداروں اور ان کے کارکنوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ روزنامہ کسوٹی کے اشتہارات کی بندش اس صورت حال کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے اور اس امر کی متقاضی ہے کہ صحافتی اداروں کی بقا اور کارکنوں کے معاشی تحفظ کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اخبارات کے سرکاری اشتہارات کی بحالی کے معاملے پر فوری توجہ دی جائے اور صحافتی کارکنوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے ان کے روزگار کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

ضیاءالحق سرحدی نے واضح کیا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت نے اشتہارات بحال نہ کیے تو صحافتی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے ملک گیر احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزنامہ کسوٹی کی بندش صرف ایک اخبار کا نقصان نہیں بلکہ ان خاندانوں کا مسئلہ بھی ہے جن کے گھروں کے چولہے اس ادارے سے وابستہ روزگار کے باعث جلتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے