خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نورحلیم آفریدی)باڑہ سیاسی اتحاد نے وادی تیراہ میں ترقیاتی کام نہ ہونے اور بنیادی سول اداروں کی غیر فعالیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔
تفصیلات کے مطابق باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر حاجی ہاشم خان آفریدی کی قیادت میں سیاسی اتحاد باڑہ اور متاثرین تیراہ کے مشترکہ وفد نے وادی تیراہ کا دورہ کیا اور علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، سرکاری اداروں کی موجودگی اور عوام کو دستیاب بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔
وفد میں باڑہ سیاسی اتحاد میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین حاجی شیرین، حاجی ظاہر شاہ، مراد ساقی، شیر شاہ، اکرام آفریدی، محمد خان، مولانا اسد اللہ، عبد الرحیم، اصغر خان آفریدی، ملک عابد فیض، ملک عطا اللہ، میاں احمد گل اور سید غنی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے مطابق دورے کے دوران اسکول، کالج، ہسپتال، پل، ہائیڈرو پاور، تحصیل کمپاؤنڈ اور دیگر بڑے عوامی منصوبے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔ اتحاد کا کہنا تھا کہ صرف دوا توئی سے تند کے علاقے تک تقریباً ڈیڑھ سے دو کلومیٹر سڑک پر اسفالٹ کا کام دکھائی دیا، جبکہ تیراہ کے وسیع علاقوں میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کی عملی موجودگی نظر نہیں آئی۔
اتحاد نے کہا کہ صوبائی حکومت تیراہ میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کر رہی ہے، تاہم ان کے دورے کے دوران سامنے آنے والے زمینی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ رہنماؤں کے مطابق تیراہ روڈ پر کام جاری ہے، لیکن مختص اور جاری کیے گئے خطیر فنڈز کے مقابلے میں کام کی رفتار انتہائی سست ہے اور مجموعی کام تقریباً 15 فیصد تک بھی مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
دورے کے دوران باڑہ سیاسی اتحاد کے وفد نے تیراہ میں 27 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ادریس سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں تیراہ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور عوام کی واپسی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے مطابق بریگیڈیئر ادریس نے 37 نکاتی ایجنڈے میں فوج سے متعلق نکات کی تکمیل کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے تیراہ کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جہاں جہاں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں قائم ہیں، ان تمام علاقوں پر فورسز کا مکمل کنٹرول ہے اور وہ علاقے کلیئر ہیں۔
ملاقات کے دوران بریگیڈیئر ادریس نے کہا کہ اگر تیراہ میدان سے منسلک ضلع کرم اور ضلع اورکزئی کی جانب سے علاقے میں مداخلت ہوتی ہے تو ایسی صورتحال میں صوبائی حکومت، سول انتظامیہ، پولیس اور مقامی لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے علاقے کے امن و امان کے تحفظ میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
باڑہ سیاسی اتحاد نے کہا کہ اگر سکیورٹی حکام کے مطابق تیراہ کے بیشتر علاقے کلیئر ہیں تو صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عوام کی واپسی اور سول اداروں کی بحالی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
باڑہ سیاسی اتحاد نے تیراہ میں پولیس، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اور دیگر سول اداروں کی غیر فعالیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اتحاد کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقے میں پائیدار امن اور معمول کی زندگی کی بحالی کے لیے صرف سکیورٹی اداروں کی موجودگی کافی نہیں بلکہ سول اداروں کا فعال ہونا بھی ضروری ہے۔
اتحاد نے سوال اٹھایا کہ اگر تیراہ کے علاقے سکیورٹی کے لحاظ سے کلیئر ہیں تو اسکول کب کھلیں گے؟ ہسپتال اور صحت مراکز کب فعال ہوں گے؟ پولیس کا باقاعدہ نظام کب قائم کیا جائے گا؟ سڑکیں، پل، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کب بحال ہوں گی؟
باڑہ سیاسی اتحاد نے خیبر پختونخوا حکومت، چیف سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر خیبر اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ تیراہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ان کے لیے مختص فنڈز کی مکمل اور شفاف تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
اتحاد نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ کن منصوبوں کے لیے کتنی رقم مختص اور جاری کی گئی، اب تک کتنی رقم خرچ ہو چکی ہے اور زمینی سطح پر ان منصوبوں پر کتنا کام مکمل ہوا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ تیراہ کے عوام مزید صرف اعلانات اور کاغذی منصوبے نہیں چاہتے بلکہ انہیں عملی طور پر اسکول، کالج، ہسپتال، سڑکیں، پل، بجلی، پانی، پولیس اور دیگر بنیادی سہولیات درکار ہیں۔
باڑہ سیاسی اتحاد نے مطالبہ کیا کہ تیراہ میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے، نامکمل منصوبے فوری مکمل کیے جائیں، غیر فعال سول اداروں کو بحال کیا جائے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
اتحاد نے واضح کیا کہ تیراہ کی حقیقی ترقی کا فیصلہ سرکاری فائلوں، اعلانات اور اربوں روپے کے دعووں سے نہیں بلکہ زمینی سطح پر مکمل ہونے والے منصوبوں اور عوام کو حاصل ہونے والی سہولیات سے ہوگا۔ حکومت کو اب دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے تیراہ کے عوام کو مطمئن کرنا ہوگا۔