علامہ اقبال ہسپتال گردہ فروشی اسکینڈل: کیس پنجاب آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے حوالے، 100 سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف

قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو)اسٹیل باغ چوک میں واقع ایک پرائیویٹ علامہ اقبال ہسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ پیوند کاری کے سیکنڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد کیس کو پنجاب آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیم نے ہسپتال کا دورہ کیا ہے جبکہ انتظامیہ سمیت 100 سے زائد افراد کے اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

لاہور کی 27 سالہ لڑکی سکینہ بی بی کو اس کی والدہ اور کزن کے ہمراہ قصور لایا گیا تھا جہاں آپریشن کے دوران خفیہ اطلاع پر پولیس اور انتظامیہ نے کارروائی کی۔ پولیس نے موقع سے تین ملزمان نوید، شہباز اور سید عمار کو گرفتار کر لیا جنہوں نے خاتون کے غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کی ڈیل کی تھی، جبکہ ہسپتال کا عملہ اور دیگر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ہسپتال کے باہر کھڑی کار سے باہر سے لائے گئے آپریشن کے اوزار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے نجی ہسپتال کو فوری طور پر سیل کر دیا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کو تشویشناک حالت کے باعث بابا بلھے شاہ ہسپتال سے لاہور ریفر کر دیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ لڑکی کا گردہ پہلے ہی نکالا جا چکا تھا یا نجی ہسپتال میں اس کی کوشش کی جا رہی تھی۔

حالیہ ہولناک واقعے نے مئی 2017ء میں لاہور کی ای ایم ای سوسائٹی میں ہونے والے غیر قانونی گردوں کی پیوند کاری کے اس بڑے سیکنڈل کی یاد تازہ کر دی ہے، جہاں غریب لوگوں کے گردے محض ایک سے دو لاکھ روپے میں خرید کر غیر ملکی مریضوں کو 30 سے 50 لاکھ روپے میں بیچے جا رہے تھے۔

اس وقت فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فواد ممتاز اور وائی ڈی اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر التمش کھرل سمیت دیگر عملے کو گرفتار کیا تھا، جبکہ اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی سہولت کار ثاقب خان چدھڑ موقع سے فرار ہو گیا تھا۔

مفرور ملزم ثاقب کے خلاف پنجاب ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2012 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور بعد میں اسے مری روڈ راولپنڈی سے گرفتار بھی کیا گیا، تاہم وہ نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف ضمانت پر رہا ہوا بلکہ وقت کے ساتھ سیاست میں داخل ہو کر مسلم لیگ (ن) کا ایم پی اے بننے میں بھی کامیاب ہو گیا۔

قصور کا حالیہ سیکنڈل اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جہاں غریبوں کے اعضاء کو پیسوں کے بدلے بیچا جاتا ہے وہاں طاقتور ہمیشہ بچ نکلتے ہیں، اور اب عوامی حلقوں میں یہ بڑا سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا موجودہ کیس کے ملزمان کو سزا ملے گی یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح فائلوں میں ہی دفن ہو کر رہ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے