واشنگٹن(کیو این این ورلڈ)امریکی انٹیلی جنس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں امریکی سفارت کاروں اور سرکاری حکام کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں تیزی آ چکی ہے. امریکی شہریوں کے خلاف خطرناک کارروائیوں کی یہ مبینہ منصوبہ بندی بعض مقامات پر تکمیل کے قریب یا آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے. یہ انتباہ امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے 23 اکتوبر 2026 کو وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک میمو میں سامنے آیا ہے.
سفارتی عملے میں کمی اور حفاظتی اقدامات:میمو کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ ایران سے متعلق خطرات کی معلومات محکمہ خارجہ کے مزید اہلکاروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں. تاہم، اس دستاویز میں مبینہ منصوبوں کے مخصوص اہداف یا مشرقِ وسطیٰ سے باہر کے ممالک کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں. انٹیلی جنس رپورٹس اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر، امریکی محکمہ خارجہ نے خطے میں اپنے سفارت خانوں کے عملے کو محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے ساتھ ساتھ یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو بھی سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کا ایک بڑا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 اکتوبر کو فلوریڈا میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انتباہ کیا تھا کہ اگر ایران کسی منصفانہ معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکہ اس کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کر سکتا ہے، اور انہوں نے ممکنہ کارروائی کے لیے "آپریشن ایپک فیوری” کا بھی حوالہ دیا، تاہم اس بیان میں کسی حتمی تاریخ یا تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس تمام صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی سفارتی مشنز کی سلامتی اور خطے کی مجموعی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔
