‘اپنے دستخط کی عزت رکھیں’، ایران نے دھمکیوں پر امریکہ کو معاہدے کی شقیں یاد دلا دیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات شروع نہیں ہوں گے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اس حوالے سے واضح شرائط طے کرتی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 کے مطابق حتمی معاہدے پر مذاکرات اسی صورت میں شروع ہوں گے جب معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد کا آغاز ہو اور وہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام اور مسلح افواج کسی بھی قسم کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوتے، جبکہ اپنے مختصر پیغام میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ "اپنے دستخط کی عزت رکھیں۔”
اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی ملک یا شخصیت کا نام نہیں لیا، تاہم یہ بیان امریکی صدر Donald Trump کے اس حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر "کام تمام کر دے گا”۔
عباس عراقچی نے جس شق نمبر 13 کا حوالہ دیا، اس کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اور ابتدائی شرائط پر عمل درآمد شروع ہونے کی صورت میں دونوں ممالک حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بالواسطہ طور پر مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر ایک کی بھی یاد دہانی کرائی، جس میں دونوں ممالک اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ، فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔
یاد رہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مستقبل کے مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔