پاکستان نے تیسری عالمی جنگ ،کیسے روکی؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفے بڈانی
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جنگ کے سیاہ بادل افق پر نمودار ہوتے ہیں، تو سب سے پہلے انسانیت کا دل لرزتا ہے۔ ستمبر 2025 اور فروری 2026 کے درمیانی مہینے کچھ ایسے ہی مہیب تھے، جب پورا مشرقِ وسطیٰ بارود کی آگ میں سلگ رہا تھ اور ہولناک تباہی کی چاپ سن کر معصوم بچوں کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے جانے والے ہولناک فضائی حملوں اور آسمان سے برستی بارود کی بارش نے عالمی معیشت کو زیر و زبر کر دیا، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور دنیا کا سانس ‘اسٹریٹ آف ہرمز’ کے بحری راستے کی بندش کے خوف سے اٹک گیا تھا۔ یہ محض چند حکومتوں کا ٹکراؤ نہیں تھا، بلکہ تیسری عالمی جنگ (World War III) کا وہ خوفناک دہانہ تھا جہاں اگر ایک بھی قدم غلط پڑ جاتا، تو پوری انسانیت راکھ کا ڈھیر بن جاتی۔ ایسے ہولناک ماحول میں جب دنیا کے بڑے بڑے ایوان مصلحت کی چادر اوڑھے بیٹھے تھے، پپاکستان نے اپنی حکمتِ عملی کی بصیرت اور لازوال عزم سے ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا۔
اس بھیانک منظرنامے کا سب سے دل دہلا دینے والا اور سنسنی خیز موڑ 15 اپریل 2026 کو اس وقت سامنے آیا، جب پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تمام تر ذاتی اور سفارتی پروٹوکولز کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسا جرات مندانہ فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ جب ایران کے ہائی الرٹ وار زون میں موت رقص کر رہی تھی اور کوئی بھی عالمی رہنما وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر براہِ راست اس سلگتے ہوئے میدان میں جا پہنچے۔ دوسرا دورہ 22 مئی 2026کو کیا، تہران کی بند کمرہ ملاقاتوں میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اور فارن منسٹر عباس عراقچی کے سامنے جب انہوں نے زمینی حقائق کا نقشہ رکھا، تو وہ محض رسمی الفاظ نہیں تھے بلکہ ڈوبتی ہوئی انسانیت کو بچانے کی ایک سچی تڑپ تھی۔ فیلڈ مارشل نے ایران کو اس جذباتی جال سے نکالا جو دشمن نے پورے مسلم بلاک کو نیست و نابود کرنے کے لیے بچھا رکھا تھا۔ پاکستان کی اس مخلصانہ شٹل ڈپلومیسی اور غیر جانبدارانہ کردار نے تہران کو یہ پختہ یقین دلایا کہ ان کا پڑوسی امن کا سچا خواہاں ہے، جس کے بعد ایرانی عسکری کمانڈرز نے اپنے غصے کو ضبط کر کے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
عسکری محاذ پر لگی اس آگ کو سرد کرنے کے ساتھ ساتھ، پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے مسلم امہ کے دیگر برادر ممالک یعنی سعودی عرب، قطر اور اومان کے جذبات اور اندیشوں کو سنبھالا۔ ستمبر 2025 میں ہونے والا پاک سعودی ‘میوچل ڈیفنس پیکٹ’ ایک ایسا نازک موڑ تھا جو کسی بھی وقت ایک ٹریپ بن سکتا تھا، لیکن پاکستان نے اپنی روایتی دانشمندی سے اس معاہدے کو سعودی عرب کے دفاع کا ضامن تو بنایا، مگر اسے ایران کے خلاف عسکری مہم جوئی میں استعمال ہونے سے بچا لیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جب یہ واضح پیغام دیا کہ سعودی حدود پر کوئی بھی حملہ پاکستان کو متحرک کر دے گا، تو اس نے جہاں ایران کو جارحیت سے روکا، وہیں خلیجی ممالک کو بھی سکون کا سانس فراہم کیا۔ قطر اور اومان، جو امریکی فوجی اڈوں اور اپنے حساس بحری راستوں کی وجہ سے شدید دباؤ میں سسک رہے تھے، پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے سائے میں آ گئے۔ پاکستان کی اس غیر جانبدارانہ اور متوازن حکمتِ عملی نے خطے کے ان تمام ممالک کو ایک ایسے خونی تصادم کا فریق بننے سے بچا لیا جو خطے کی خوشحالی کو ہمیشہ کے لیے نگل جاتا۔
سفارت کاری کا یہ کٹھن سفر صرف خطے تک محدود نہیں تھا، بلکہ پاکستان نے بیک وقت واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کے اقتدار کے ایوانوں میں انسانیت کی بقا کا مقدمہ لڑا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس نازک ترین دور میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مسلسل ہاٹ لائن رابطے برقرار رکھے اور مئی 2026 میں بیجنگ کا ایک ہنگامی دورہ کر کے چین کے معاشی اور سیاسی وزن کو امن کی ترازو میں لا کھڑا کیا۔ دوسری طرف، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے روس اور امریکہ جیسے ازلی حریفوں کے درمیان ایک ایسا فعال سفارتی پُل قائم کیا جہاں دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے ارادوں کو سمجھ سکیں۔ اسی دوران، وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ اور عالمی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کا محاذ سنبھالا۔ انہوں نے امریکی مقتدر حلقوں کو انتہائی ٹھوس شواہد کے ساتھ قائل کیا کہ ایران پر کوئی بھی بڑا حملہ مشرقِ وسطیٰ میں خود امریکی مفادات کا جنازہ نکال دے گا اور اس کے بعد پھیلنے والے تعفن کو کوئی طاقت قابو نہیں کر پائے گی۔ اس انتھک سفارتی تکون کی بدولت اسلام آباد ٹاکس کی میزبانی ممکن ہوئی، جہاں عالمی طاقتوں نے تباہی کے خوف سے اپنے قدم پیچھے ہٹا کر جنگ بندی کی توسیع پر دستخط کیے۔
لیکن دردِ سر صرف باہر کا نہیں تھا بلکہ جب پاکستان عالمی امن کا مسیحا بن کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا تھا، تو اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے لیے ایک مکارانہ ‘ٹرائی اینگل گٹھ جوڑ’ متحرک ہو چکا تھا۔ بھارت، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا یہ ثلاثی اتحاد (I2U2 اور IMEC راہداری کے ذریعے) پاکستان کی اس حکمتِ عملی کی کامیابی سے خوفزدہ تھا۔ ان کا واضح اور معاندانہ مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو اندرونی طور پر اتنا لہولہان کر دیا جائے کہ وہ عالمی سطح پر کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے اپنے پرانے مہروں کو دوبارہ جنم دیا اور پاکستان کے اندر افغانستان کے ذریعے "فتنہ الخوارج” کے سفاک دہشت گردوں کو فنڈنگ فراہم کی، جبکہ بلوچستان میں بی ایل اے (BLA) اور خیبر پختونخوا کے پرامن پہاڑوں میں دہشت گردوں کے روپ بدل کر معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کا خون بہایا گیا۔ دشمن کا خیال تھا کہ ان دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سے سی پیک (CPEC) اور گوادر بندرگاہ کا خواب چکنا چور ہو جائے گا اور پاکستان اپنے ہی شہریوں کی لاشیں اٹھانے میں مصروف ہو جائے گا۔
مگر دشمن پاکستان کے عزم اور اس کی بہادر افواج کے جذبوں کی گہرائی کو ناپنے میں ہمیشہ کی طرح ناکام رہا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں نے حبِ وطنی کے لازوال احساس کے ساتھ ان دہشت گردوں پر زمین تنگ کر دی۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں بی ایل اے اور خوارج کے خلاف ایسے بے رحم اور نیٹ کلین آپریشنز کیے گئے کہ دشمن کے نیٹ ورکس جڑ سے اکھڑ گئے۔ اس عسکری ردِعمل کے ساتھ ہی پاکستان نے عالمی فورمز پر اس ٹرائی اینگل گٹھ جوڑ کی فنڈنگ اور مکارانہ چالوں کے ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت دنیا کے سامنے رکھ دیے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کا قائم کردہ پورا پروپیگنڈا ریت کی دیوار ثابت ہوا، IMEC کوریڈور کا غبارہ نکل گیا اور بھارت عالمی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا، جبکہ پاکستان نے گوادر اور سی پیک کی حفاظت کو فول پروف بنا کر اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کا لوہا منوا لیا۔
آج جب اس بھیانک ترین بحران کے طوفان تھم چکے ہیں اور دنیا کا چہرہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے تو یہ سچائی روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے دراصل پوری کائنات کی بقا کا معجزہ کر دکھایا ہے۔ یہ فتح محض کسی ایک ادارے، فرد یا حکومت کی نہیں ہے بلکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فولادی عسکری ہیبت، شہباز شریف حکومت کی شبانہ روز سفارتی ریاضت اور پوری پاکستانی قوم کی لازوال دعاؤں کا وہ مشترکہ شاہکار ہے جس نے مایوسی کے گھور اندھیرے میں امید کا چراغ جلایا۔ معاشی تنگیوں، افغان سرحد سے درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور ٹرائی اینگل گٹھ جوڑ کی اندرونی ریشہ دوانیوں کے باوجود، پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ دنیا کے نقشے پر محض ایک جغرافیائی خطہ یا روایتی ایٹمی طاقت نہیں، بلکہ تپتے ہوئے صحراؤں اور سلگتی ہوئی سرحدوں کے درمیان انسانیت کا دھڑکتا ہوا دل اور عالمی امن کا سب سے معتبر امین ہے۔ جب تاریخ کا بے باک قلم تیسری عالمی جنگ کے اس مہیب دور کا احوال لکھے گا، تو وہ واشنگٹن، ماسکو یا بیجنگ کے مصلحت پسند ایوانوں کو نہیں بلکہ اسلام آباد کی اس مخلصانہ مٹی کو خراجِ تحسین پیش کرے گا، جس نے آگے بڑھ کر بارود کے خونی بٹن پر رکھے ہاتھ کو روکا اور بلکتی ہوئی انسانیت کو ایک نئی زندگی عطا کی۔ تاریخِ عالم جب بھی امن کے سچے مسیحاؤں کی فہرست مرتب کرے گی، وہ ماتھے پر پاکستان کا نام سجا کر ہمیشہ فخر کا اظہار کرتی رہے گی۔
