گھوٹکی: 'ترقی یافتہ سندھ' کا دعویٰ؟ گاؤں خدا بخش لغاری محروم، مکینوں کا 20 سالہ حساب کا مطالبہ

گھوٹکی ( کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری ) تحصیل میرپور ماتھیلو کی یونین کونسل جروار کا گاؤں خدا بخش لغاری ‘ترقی یافتہ سندھ’ کے تمام تر دعووں اور ‘ماڈرن ویلیج’ کے کھوکھلے نعروں کا منہ چڑا رہا ہے۔ پانچ ہزار ووٹرز پر مشتمل آبادی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر سراپا احتجاج بن گئی۔ مکینوں نے سوال اٹھایا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران اربوں روپے کے فنڈز کا دعویٰ تو کیا گیا، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ پختہ رابطہ سڑکیں، صاف پانی، صحت اور نکاسیٔ آب کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ضلع گھوٹکی میں ریکارڈ ترقیاتی کاموں کے سہرے باندھے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب خدا بخش لغاری کے رہائشی پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کو بھی ترس رہے ہیں۔ معمولی بارش کے دوران کچے اور خستہ حال راستے جوہڑ اور کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کے باعث بالخصوص مریضوں، خواتین اور بزرگوں کی آمدورفت انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔

پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور صفائی کے ناگفتہ بہ نظام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے سوال کیا ہے کہ کیا 5 ہزار ووٹرز کی آبادی کو صرف کاغذات کی حد تک ‘ماڈرن’ بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے؟ مکینوں کے مطابق انہیں محض سیاسی اعلانات اور فرضی یقین دہانیوں سے بہلایا جا رہا ہے، جبکہ عملی طور پر متعلقہ محکمے غائب ہیں۔

گاؤں کے مکینوں نے مقامی ایم این اے، ایم پی اے، تعلقہ و یوسی چیئرمین سمیت ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرکاری افسران کو گاؤں بھیج کر معائنہ کروائیں اور تمام بنیادی مسائل کے فوری حل کے لیے جامع رپورٹ مرتب کی جائے۔

شہریوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ 20 برس کا تمام سرکاری ترقیاتی ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ گاؤں خدا بخش لغاری کے لیے کتنے فنڈز جاری ہوئے اور وہ کس کی جیب میں گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب فرضی کاغذی منصوبے نہیں چلے گے، بلکہ سڑک، پانی اور صحت کے شعبوں میں واضح اور عملی تبدیلی لانی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے