اوچ شریف: گٹر صفائی کے دوران حفاظتی اصول نظرانداز، شہریوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف شہر میں سیوریج لائنوں کی صفائی کے دوران مبینہ طور پر حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر میں صفائی کارکن کو مبینہ طور پر بغیر مکمل حفاظتی سامان کے گہرے گٹر میں اتر کر صفائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ کارکن کو رسی کے ذریعے سہارا دیا گیا ہے۔ گٹر کے اطراف سیوریج کا گندا پانی اور کیچڑ بھی موجود دکھائی دے رہا ہے۔

شہری حلقوں کے مطابق سیوریج کے گہرے مین ہولز میں صفائی کے دوران زہریلی گیسوں، آکسیجن کی کمی اور اچانک بے ہوشی سمیت جانی خطرات موجود رہتے ہیں، اس لیے ایسے کام کے لیے تربیت یافتہ عملے کے ساتھ حفاظتی لباس، ہیلمٹ، دستانے، ماسک، مضبوط حفاظتی رسی اور گیس کی جانچ سمیت دیگر ضروری انتظامات ناگزیر ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اوچ شریف میں ماضی میں بھی گٹر اور سیوریج سے متعلق حادثات پیش آ چکے ہیں، مگر بظاہر ان واقعات سے خاطر خواہ سبق حاصل نہیں کیا گیا۔ اگر صفائی کارکنوں کو مناسب حفاظتی سہولیات کے بغیر گٹروں میں اتارا جاتا رہا تو کسی بھی وقت سنگین حادثہ رونما ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔

شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی جانب سے سیوریج صفائی پر مامور کارکنوں کے لیے حفاظتی پروٹوکول پر کس حد تک عملدرآمد کرایا جا رہا ہے؟ کیا گٹر میں اترنے سے قبل زہریلی گیسوں کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے، اور کیا کارکنوں کو مکمل حفاظتی کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جاتے ہیں؟

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمدپور شرقیہ اور میونسپل کمیٹی اوچ شریف کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر سیوریج صفائی کے موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور تمام ورکرز کو حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سیوریج کی صفائی ایک ضروری شہری خدمت ہے، تاہم اس عمل کے دوران انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے