گھوٹکی میں عبادت گاہوں کے تحفظ کا معاملہ، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی سے نوٹس لینے کی اپیل

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی میں عبادت گاہوں کے مبینہ انہدام اور ان کی جگہ دکانیں تعمیر کیے جانے سے متعلق الزامات سامنے آنے پر متعلقہ حکام سے معاملے کی شفاف تحقیقات اور مذہبی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سامنے آنے والے الزامات کے مطابق، ٹی ایم او گھوٹکی پر عبادت گاہوں کو مسمار کرکے ان کی جگہ دکانیں تعمیر کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ مقامات کی نشاندہی، سرکاری ریکارڈ اور قانونی دستاویزات کا جائزہ لے کر معلوم کیا جائے کہ آیا عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا اور وہاں دکانوں کی تعمیر کس قانونی جواز کے تحت کی گئی۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گھوٹکی اور ایس ایس پی گھوٹکی سے اپیل کی گئی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ متعلقہ حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ عبادت گاہوں کی قانونی حیثیت، ملکیت اور تعمیرات سے متعلق دستیاب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

مطالبہ کرنے والے حلقوں کے مطابق، اگر تحقیقات کے دوران کسی عبادت گاہ کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنے یا اس کی جگہ دکانیں تعمیر کرنے کی تصدیق ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی مقامات کے تحفظ اور شہریوں کے مذہبی حقوق کی پاسداری کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

عبادت گاہیں تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مذہبی عقیدت اور عبادت کا اہم مقام رکھتی ہیں۔ ان کا تحفظ، احترام اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانا معاشرتی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور امن و امان کے لیے اہم ہے۔ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ ایسے معاملات میں قانون اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کارروائی کریں اور کسی بھی تنازعے کو شفاف طریقے سے حل کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے