جنرل فضل حق کاشمار ہمارے انتہائی قابل احترام اور دبنگ جرنیلوں میں ہوتا تھا

3اکتوبر جنرل فضل حق کی 5 3ویں برسی
ضیاء الحق سرحدی پشاور(ستارہ امتیاز)
ziaulhaqsarhadi@gmail.com

جنرل فضل حق کاشمار ہمارے انتہائی قابل احترام اور دبنگ جرنیلوں میں ہوتا تھا،انہیں ہم سے جدا ہوئے پورے 35 برس گزر گئے،3اکتوبر1991 کوجب وہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے توڈیفنس کالونی پشاور گھر کے قریب گھات میں بیٹھے کرائے کے قاتلوں نے انہیں گولیوں سے چھلنی کردیاتھا۔اس دور کے وزیراعلی سرحد میرا فضل خان نے اس واقعہ کے بارہ دن بعد15، اکتوبر1991کوسرحد کی صوبائی اسمبلی میں صوبے میںامن وامان کی صورت حال پر بحث سیمٹتے ہوئے کہاتھا کہ ، فضل حق کاقتل ہماری حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے،وہ چیلنج آج بھی ہردور کے لئے دیگر قومی سانحات کی طرح موجود ہے،ماضی قریب میں خیبرپختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت رہی اس کے لئے وہ سانحہ اور بھی توجہ طلب تھا کیونکہ فضل حق کاعوامی نیشنل پارٹی کے رہنماں سے عقیدت واحترام کے علاوہ ذاتی تعلق بھی تھا ،لیکن فضل حق کاخیال کسی کو نہ آیا حتی کہ جنرل فضل حق جب قتل ہوئے توان دنوںصوبہ سرحد کے گورنر ان کے نوجوانی کے دوست بریگیڈیئر گلستان جنجوعہ تھے مگر وہ بھی کچھ نہ کرسکے،جبکہ وہ گاؤں گاؤں،گلیوں ،گلیوں پہنچتے تھے۔

تعلیم کے بعد مواصلات انکی دوسری ترجیح تھی،ان کے دور میں863میل پختہ سڑکیں تعمیر ہوئیں650میل نئی کچی سڑکیں بنی تھیں،ہزار وںمیل پرانی سڑکیں کشادہ کیں116بڑے پل بنائے گئے سالانہ 1250روپوں کا 24فیصد تعلیم پر خرچ کیا،3یونیورسٹیاں33ڈگری کالج بنوائے 221ہائی اسکول330مڈل اور تین ہزار پرائمری اسکول بنائے ،ان کا سارا زور پرائمری تعلیم پر تھا،وہ بتایا کرتے تھے کہ انہیں جہاں کہیں دور دراز چند گھر دکھائی دیتے، وہ دشوار گزار راستوں سے پیدل وہاں پہنچ جایا کرتے کبھی کبھی ہیلی کاپٹر سے اچانک کسی گاؤںجااترتے اور فوری طور پروہاں پرائمری اسکول تعمیر کرنے کاحکم دیتے پھر دیگر محکموں کوکہتے اسکول کی بلڈنگ بننے سے پہلے وہاں پانی بجلی اور سڑک پہنچائی جائے یوں ویرانے آباد ہوتے گئے اور بستیاں علم ونور سے منور ہوتی رہیں۔

جنرل فضل حق کے دور میں خیبرپختونخواہ کی سڑکیں پورے ملک میں مثالی سمجھی جاتی تھیں لیکن اب گزشتہ کافی عرصے سے وہی شاہراہیں کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہیں وہ سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی بجری کودھلوایا کرتے تھے اس عمل کویقینی بنانے کے لئے وہ اکثر کسی نہ کسی زیر تعمیر سڑک پر جاکر ہیلی کاپٹر سے اترتے گھنٹوں وہاں موجود رہ کے کام کاجائزہ لیاکرتے تھے ان دنوں ٹھیکیداروں اور صوبائی انتظامیہ کی نگاہیں جنرل فضل حق کے ہیلی کاپٹر کے انتظار میں فضاں کو گھورتی رہتی تھیں۔

جنرل فضل حق ستمبر 1928 ء کوضلع مردان میں پیدا ہوئے تھے تیسری جماعت تک مردان میں پھر 1935 سے1939 تک کوہاٹ میںپڑھے،اس کے بعددِہرہ دُون( انڈیا) ملٹری اکیڈمی چلے گئے وہیں سے ستمبر1946 میں فوج کے لئے منتخب ہوئے گائیڈز کیولری کوہاٹ سے انہوں نے باقاعدہ فوجی زندگی کاآغاز کیا وہ جب میجر تھے توفیلڈمارشل ایوب خان کے باڈی گارڈ دستے کے انچارج رہے انہی دنوں ذوالفقار علی بھٹو ان کے قریب ہوئے۔1965 کی پاک بھارت جنگ انہوں نے سیالکوٹ میں چونڈہ کے محاذ پر لڑی زندگی کی ہرسطح پر ان کی خدمات بے پایاں ہیں جدوجہد ان کا ماٹو تھا ان کی ساری فوجی سروس فیلڈ میں گزری وہ ایک دن بھیGHQمیں نہیں رہے، وہ کورکمانڈر بھی ہوئے، مارشل لا ایڈمنسٹریڑ،گورنر اور وزیر اعلی بھی رہے ۔

1988ء میں انہیں نگران وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے صوبے میں خدمات انجام دینے کا موقع میسر آیا، انہوں نے سیاست میں حصہ لیا لیکن اس شہر سے جہاں انہوں نے بے شمار ترقیاتی کام کئے عام انتخابات میں انہیں شکست ہو گئی تا ہم وہ کوہستان سے صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔جنرل فضل حق 1988 میں سینیٹر منتخب ہوئے اور اس کے بعد مئی1988 میں اسی صوبے کے 15ویں وزیر اعلی منتخب ہوئے۔

جنرل فضل حق اپنے دور میں ایک طاقتور شخصیت ثابت ہوئے تھے اور اپنی کارکردگی سے عوام کا عتماد حاصل کیا۔وہ بحیثیت گورنر نمایاں شخصیت قرار پائے اور اپنی بہترین لیڈر شپ کے ذریعے طرز حکمرانی میں بہتری لائی۔ انہوں نے اپنے دور میں معاشی ترقی پر زیادہ زور دیا، وہ عموما انفراسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے یاد کئے جائیں گے لیکن اصل میں انہوں نے تعلیمی خدمات کی فراہمی کیلئے نمایاں اقدامات اٹھائے تھے۔ ایک آرمی جنرل اور ایڈمنسٹریٹر کے ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی کار کردگی کے بل بوتے پر اپنے لئے سیاسی حلقہ بھی بنا لیا اور اپنے ساتھی سیاستدانوں کی زبانی وہ واحد جنرل تھے جو کامیاب سیاست کی طرف منتقل ہوئے ۔ اپنی خدمات کی وجہ سے بطور انسان سولجر انسان ، سولجر اور لیڈر شپ عوام کا بے حد احترام کرتے تھے، حتی کہ بعد از مرگ ان کی دو آنکھوں کے عطیے نے دو انسانوں کی بینائی بحال کی اور وہ دوبارہ اس کائنات کو دیکھ سکے۔

جنرل فضل حق دبنگ گورنر تھے جو آرڈر دیتے اس پر عملدرآمد کرواتے ۔حکم دیتے اور انگریزی میں کہتے ”ڈو اینڈ رپورٹ می”کام چوروں اور کرپٹ لوگوں کے لئے سخت مگر عام زندگی میں نرم تھے۔بیوروکریسی تو کاپنتی تھی۔مہینے میں بیس دن دفتر میں کام کرتے اور دس دن فیلڈ میں جاتے۔مختلف علاقوں کے دورے کرتے۔کہتے کہ دیکھتے ہیں کہ ان کے احکامات پر کس حد تک عمل در آمد ہوا ہے۔اور جو کام نہ ہوتا تو اس افسر کی خیر نہ ہوتی۔بھری مجلس میں ایسی کلاس لیتے کہ اسے اماں بابا یاد آجاتا۔سب حیران ہو جاتے۔ان دنوں پی ٹی وی سے پشتوکا ایک پروگرام چلا کرتا تھا ”سوک بدے تپوس کئی”’کون پوچھے گا تمہارا”جنرل فضل حق نے جب یہ پروگرام دیکھا تو انہوں نے برملا سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا”زا بہ تپوس کوم”یعنی کہ میں پوچھوں گا۔پھر انہوں نے یہ کام کر دیکھایا۔

جنرل فضل حق اخبار نویسوں اور کالم نگاروں کے قریب رہے اور اخبار نویس ان کے قریب ۔اخبار نویس ان کے ہر دورے میں ان کے پیچھے پیچھے اور ساتھ ساتھ ہوتے۔کبھی نظر نہ آتے تو جنرل فضل حق پیچھے مڑ کر مسکراتے ہوئے مذاق میں کہتے۔ کہاں ہے میری امت۔راقم ضیاء الحق سرحدی کی بھی اکثر جنرل فضل حق صاحب سے کئی ملاقاتیں رہی۔وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبر بھی رہے زندگی کے آخری دنوں میں وہ صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے ان کی بیگم ان سے کہا کرتی تھیں کہ لوگ ترقی کرتے ہوئے نیچے سے اوپر جاتے ہیں مگر آپ اوپر سے نیچے کی طرف آرہے ہو اب ضلع کونسل کاممبر کب بنو گے؟

جنرل فضل حق بہت ہمدرد انسان تھے وہ ہر وقت کسی نہ کسی کی مدد کو پہنچے رہتے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل فضل حق بلاشبہ ایک قابل فخر ایڈمنسٹریٹر اور اس صوبے کے عوام سے محبت کرنے والی شخصیت تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کانام آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔وہ جس کوپسند کرتے،دل وجان سے اسکا احترام کرتے تھے اور جسے ناپسند کرتے اسے بتادیا کرتے تھے،ڈھکی چھپی یالگی لپٹی بات ان سے میلان نہیں کھاتی تھی وہ ہروقت خوش رہتے تھے سیاست کی دنیا میں ان جیسے کھراکم کم دکھائی دیتے ہیں حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا ۔

جنرل فضل حق خیبر پختونخواہ کے بڑے دبنگ گورنر گزرے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک روز وہ اسلام آباد سے پشاور آرہے تھے۔جب اٹک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آٹے کی بوریوں سے لدھے کئی ٹرک قطار میں کھڑے ہیں۔انہوں نے گاڑی روکی اور پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے تو بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے خیبر پختونخواہ کو آٹے کی سپلائی بند کر رکھی ہے۔وہ گاڑی میں سوار ہو کر پشاور آگئے اور فوراً پنجاب پر بجلی کی سپلائی لائن بند کرنے کا حکم دیا۔تب کیا تھا پنجاب حکومت کی چیخیں نکل گئیں اور بجلی بحال کرنے کی منتیں کرنے لگے ۔گورنر فضل حق نے جواب میں کہا کہ جب تک خیبر پختونخواہ کو آٹے کی سپلائی بحال نہیں ہوجاتی، پنجاب پر بجلی بند رہے گی۔پنجاب پر بجلی بند کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو گھنٹے گزرے نہیں تھے کہ اٹک پر کھڑے آٹے کے تمام ٹرک پشاور پہنچ گئے اور اس کے بعد پنجاب کی بجلی بحال کردی گئی۔اب بھی خیبر پختونخوا میں گورنر بھی موجود ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی لیکن جنرل فضل حق مرحوم کی طرح جرأت کہاں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے