گلگت (کیو این این ورلڈ) گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے، جس کے فوراً بعد پولنگ اسٹیشنز کے اندر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل باقاعدہ شروع کر دیا گیا ہے۔ صبح سے شروع ہونے والا پولنگ کا یہ عمل بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا، جہاں مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کا روایتی جوش و خروش دیکھا گیا اور لوگ حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے رہے۔
انتخابات کے دوران چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا تفصیلی دورہ کیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ مقررہ وقت پر شروع ہوئی اور شہریوں نے بھرپور جوش و خروش سے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ دوسری طرف اسکردو میں غیر متعلقہ افراد کے پولنگ اسٹیشن کے قریب آنے پر معمولی تکرار ہوئی، تاہم موقع پر موجود پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل قابو میں کر لیا، جبکہ استور کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے، جن میں سے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 349 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس اور 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ انتخابی معرکے کو پرامن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے، جہاں مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتخابی حلقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا۔
اس بار انتخابی دوڑ میں مجموعی طور پر 403 امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار شامل ہیں۔ جماعتوں کے لحاظ سے پیپلز پارٹی کے 23، ن لیگ کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جے یو آئی (ف) کے 9 امیدوار میدان میں اترے، جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدواروں سمیت 266 آزاد امیدواروں نے بھی انتخابی دنگل میں قسمت آزمائی کی۔ اب گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد مختلف حلقوں سے نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
