گھوٹکی: جروار میں آٹا 8 ہزار روپے من فروخت ہونے لگا، انتظامیہ کی آنکھیں بند، شہریوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سندھ حکومت اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان آٹے کی قیمتوں میں کمی کے حالیہ صوبائی معاہدے کے اثرات اندرونِ سندھ کے دور دراز علاقوں تک نہ پہنچ سکے۔ تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور گردونواح میں آٹا 8 ہزار روپے فی 40 کلوگرام (200 روپے فی کلو) کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہونے لگا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی خاموشی پر شہریوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، حال ہی میں سندھ حکومت اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے مابین ہنگامی مذاکرات کے بعد آٹے کی ایکس مل قیمت 155 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، جس کے تحت بڑے شہروں میں ریٹیل قیمت 170 روپے کے لگ بھگ ہونی چاہیے تھی۔ مزید برآں، وزیر اعلیٰ سندھ نے 15 اکتوبر سے فلور ملز کو 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلوگرام کے حساب سے سرکاری گندم کے اجرا کی منظوری بھی دے رکھی ہے۔

تاہم، جروار کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی سرکاری قیمت 5,400 روپے فی من بتائی جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آٹا 8,000 روپے من فروخت کر کے منافع خور غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کا نیٹ ورک مستقل طور پر ختم کیے جانے کے بعد، عوام کے پاس سستے آٹے کا کوئی متبادل سرکاری ذریعہ یا موبائل ٹرک بھی موجود نہیں ہے، جس کے باعث وہ مکمل طور پر اوپن مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔

مہنگائی کے اس بدترین دور میں آٹے کی قیمتوں نے غریب، متوسط طبقے اور خاص طور پر دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن بنا دیا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب صوبائی سطح پر نرخ طے ہو چکے ہیں، تو جروار میں سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد کیوں یقینی نہیں بنایا جا رہا اور مارکیٹ کی نگرانی کون کر رہا ہے؟

شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر خوراک، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی اور اسسٹنٹ کمشنر میرپور ماتھیلو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ 15 اکتوبر سے سرکاری گندم کے اجرا سے قبل ہی جروار کی مارکیٹوں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے ذریعے فوری چھاپے مارے جائیں۔ آٹا ڈیلرز اور چکی مالکان کے خرید و فروخت کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے