12 اضلاع کے لیے ایریا ڈویلپمنٹ کونسل بنانے کی تجویز، گورنر کی 11 رکنی ایڈوائزری کابینہ متوقع

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی ڈھانچے اور نئے سیٹ اپ کے خدوخال سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے 8 قبائلی اضلاع سمیت 12 اضلاع کے لیے 40 سے 50 ارکان پر مشتمل ایریا ڈویلپمنٹ کونسل قائم کی جائے گی، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کابینہ تشکیل دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کا بنیادی مقصد شورش زدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا اور مقامی آبادی کو ترقیاتی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت متعلقہ اضلاع میں انتظامی امور کی نگرانی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق جن 12 اضلاع کے لیے ایریا ڈویلپمنٹ کونسل بنانے کی تجویز ہے، ان میں 8 قبائلی اضلاع کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ ان علاقوں میں امن و امان اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ انتظامی انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت ان اضلاع کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس بھی تعینات کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ان اعلیٰ سرکاری افسران کو وفاقی حکومت کے سامنے جوابدہ بنایا جائے گا، تاکہ انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک مربوط نظام قائم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے تحت گورنر خیبرپختونخوا کو تفویض کردہ اختیارات کے استعمال کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کابینہ تشکیل دینے کا منصوبہ ہے۔ مجوزہ کابینہ میں 10 ٹیکنوکریٹس شامل ہوں گے، جبکہ ثمر بلور واحد سیاستدان کی حیثیت سے اس کا حصہ ہوں گی۔

اس مجوزہ سیٹ اپ میں ٹیکنوکریٹس کی شمولیت کا مقصد مختلف شعبوں میں انتظامی اور پیشہ ورانہ مہارت سے فائدہ اٹھانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم کابینہ کے ارکان، ان کی ذمہ داریوں اور تقرریوں سے متعلق حتمی تفصیلات باضابطہ اعلان کے بعد سامنے آئیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے میں امن و امان کی بحالی نئے انتظامی سیٹ اپ کا پہلا ہدف ہوگا۔ اس مقصد کے لیے شورش زدہ اضلاع میں سیکیورٹی اقدامات، انتظامی نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق ایمرجنسی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کو معطل کرنے اور اسمبلی کے عملے کے اختیارات بھی معطل کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم اسمبلی کی حیثیت، اس کے اختیارات اور عملے سے متعلق اقدامات کی حتمی قانونی صورت متعلقہ سرکاری اعلامیے اور آئینی طریقۂ کار سے واضح ہوگی۔

خیبرپختونخوا میں مجوزہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت ایریا ڈویلپمنٹ کونسل، اعلیٰ افسران کی تعیناتیوں اور ایڈوائزری کابینہ کی تشکیل سے صوبے کے انتظامی معاملات میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ ان تجاویز پر عمل درآمد اور ان کی حتمی تفصیلات کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشنز اہم ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے