اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس مجوزہ فیصلے سے متعلق صوبائی حکومت کو پیغام بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آج ہونے والے اہم اجلاس میں اس معاملے پر حتمی فیصلوں کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق غور کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان اضلاع میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور زیریں وزیرستان کے ساتھ چار بندوبستی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت شامل ہیں۔ ان اضلاع کے لیے صوبائی انتظامی ڈھانچے سے الگ ایک خصوصی انتظام قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس میں ابتدائی طور پر ایمرجنسی دو ماہ کے لیے نافذ کرنے کی بات کی جا رہی ہے اور بعد میں صورتحال کا جائزہ لے کر اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
ان اضلاع کے لیے سیکریٹری کی سربراہی میں گریڈ 21 کا سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جس میں گریڈ 21 کا پولیس افسر بھی تعینات ہوگا۔ چار سے چھ دیگر انتظامی افسران بھی سیکریٹریٹ کا حصہ ہوں گے جو انتظامیہ، خزانہ، ترقی و منصوبہ بندی اور دیگر امور کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان افسران کی تعیناتی براہ راست وفاقی حکومت کرے گی۔ مجوزہ انتظامی ڈھانچے میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو جواب دہ ہوں گے۔
مجوزہ اقدامات پر غور کے دوران آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 تک کی متعلقہ دفعات کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ ان آئینی دفعات کے تحت ہنگامی صورتحال میں وفاقی سطح پر اقدامات کے مختلف طریقے کار موجود ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے آئینی طریقہ کار اور قانونی اثرات الگ الگ ہیں اس لیے حتمی فیصلے کی نوعیت متعلقہ آئینی تقاضوں کے مطابق طے ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور سیکریٹریز سمیت انتظامی تبدیلیوں سے متعلق ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے اور ریجنل و ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتیوں سے متعلق فہرست بھی تیار کی جا چکی ہے۔
ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے یا نہ لگانے کا دارومدار اپوزیشن اور حکومت کے وفد کے درمیان مذاکرات پر ہے۔ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں لگایا جائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے لیکن پس پردہ رابطے جاری ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کر کے تازہ ترین صورتحال پر مشاورت کریں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر پارٹی رہنما سہیل آفریدی سے ملاقات کریں گے اور انہیں وفاقی سطح پر ملنے والے پیغامات سے آگاہ کریں گے۔ ملاقات میں لانگ مارچ سے متعلق گفتگو بھی ہوگی۔ پی ٹی آئی نے سینٹرل اور کور کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگا اور اس میں لانگ مارچ، مذاکرات اور ممکنہ گورنر راج و ایمرجنسی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔