اترپردیش (کیو این این ورلڈ) میں ایک بزرگ مسلمان شہری کو ریاستی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں مبینہ نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ میں پیش آیا، جہاں احسان نامی بزرگ شہری نے ایک مقامی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو “غنڈہ” قرار دیا تھا۔
انٹرویو کے دوران بزرگ شہری نے مبینہ طور پر کہا کہ “مودی سب سے بڑا غنڈہ ہے اور ان سب کے خلاف مقدمہ ہونا چاہیے۔” اسی گفتگو میں انہوں نے مذہبی آزادی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وندے ماترم پڑھنے پر زور دیا جاتا ہے جبکہ ان کے مطابق “اللہ سب سے بڑا ہے۔”
پولیس کے مطابق یہ بیان سامنے آنے کے تقریباً 24 گھنٹے بعد احسان کو حراست میں لے لیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں ماضی کے کئی برسوں سے حکومت یا ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائیوں پر بحث جاری رہتی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے واقعات اظہار رائے کی آزادی پر سوالات اٹھاتے ہیں، جبکہ حکومتی حلقے ان کارروائیوں کو قانون کی عملداری قرار دیتے ہیں۔