22 اپریل: یومِ ارض (Earth Day) اور پاکستان کی صورتحال
تحریر: ملک ظفراقبال
ہر سال 22 اپریل کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یومِ ارض (Earth Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن زمین کے تحفظ، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ موجودہ دور میں جب موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہیں، اس دن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یومِ ارض کا آغاز 1970 میں امریکہ سے ہوا، جب امریکی سینیٹر گیلورڈ نیلسن نے اس کا تصور پیش کیا۔ اس وقت صنعتی ترقی کے باعث فضائی اور آبی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے 22 اپریل 1970 کو پہلی بار یہ دن منایا گیا، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، اور یوں یہ ایک عالمی تحریک بن گیا۔
آج پاکستان سمیت دنیا کو کئی سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے، جن میں سرفہرست موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) ہے۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ بھی بڑے خطرات بن چکے ہیں۔ یہ تمام مسائل انسانی صحت، زراعت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور جنگلات کی تیزی سے کٹائی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی کمی نظر آتی ہے۔
یومِ ارض ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین صرف ہماری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی امانت ہے۔ ہر فرد اپنے روزمرہ معمولات میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جیسے:
درخت لگانا اور سبزہ بڑھانا،
پلاسٹک کے استعمال میں کمی،
پانی اور بجلی کے ضیاع سے بچاؤ،
ری سائیکلنگ کو فروغ دینا،
اور گاڑیوں کے کم استعمال کے ذریعے فضائی آلودگی میں کمی۔
تاہم عملی طور پر ہم ان اصولوں کے برعکس طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ صاحبِ حیثیت افراد کے گھروں میں کئی کئی گاڑیاں موجود ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
پاکستان کو ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے، خصوصاً لاکھوں ایکڑ اراضی پر شجرکاری مہمات کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں نجی سطح پر کام کرنے والے افراد اور ادارے قابلِ تحسین ہیں۔ مثال کے طور پر غلام رسول پاکستانی جیسے افراد، جو کارواں فاؤنڈیشن کے تحت شجرکاری اور ماحول کے تحفظ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں شجرکاری مہمات اس انداز میں نہیں ہو رہیں جس طرح ہمارے موسمی حالات اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بھی اجاگر کیا جائے تاکہ اجتماعی طور پر اس چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یومِ ارض محض ایک دن نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک عزم اور ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ ہمیں آج ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور محفوظ زمین فراہم کی جا سکے۔
“زمین ہماری امانت ہے، اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”
