ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں جاری نام نہاد ترقیاتی سرگرمیاں شہریوں کے لیے وبالِ جان بن گئیں۔ واسا اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے باعث پورا شہر گرد و غبار کے طوفان کی لپیٹ میں ہے، جس نے انسانی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پانی کے چھڑکاؤ کے بنیادی حفاظتی تقاضوں کو یکسر نظر انداز کرنے سے واسا کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
شہر کی مرکزی شاہراہوں سمیت گلی محلوں میں جاری کھدائی اور تعمیراتی کاموں کے دوران ہر طرف مٹی کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ دن بھر اڑنے والی دھول کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ گھر، دکانیں اور دفاتر بھی مٹی سے بھر چکے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے کنٹریکٹرز کو پانی کے چھڑکاؤ (Water Sprinkling) کا پابند نہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ افسران صرف دفاتر تک محدود ہیں اور عوامی تکالیف سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گرد و غبار کے باعث شہر میں سانس لینا دشوار ہو چکا ہے، جس سے شہریوں میں آنکھوں کی جلن، گلے کی خرابی، دمہ اور پھیپھڑوں کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ خاص طور پر معصوم بچے اور بزرگ شہری اس سنگین فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مٹی کو کنٹرول کرنا کسی بھی ترقیاتی منصوبے کا بنیادی قانونی تقاضا ہے، مگر ننکانہ صاحب میں ان تمام قوانین کی سرعام دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق واسا افسران کی ناقص نگرانی اور کنٹریکٹرز کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا کی اس غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے، تعمیراتی مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے اور عوامی صحت سے کھیلنے والے ذمہ دار افسران و ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو اس اذیت سے نجات مل سکے۔