لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل رجسٹرڈ میں مقامی آبادی کو درپیش مسائل کے حوالے سے "میٹ دی پریس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں، پاکستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے نمائندوں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل اور ضلع خیبر کے عوام کو درپیش بجلی، پانی اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تقریب سے سماجی کارکن ملک زاہد شینواری، جمعیت علمائے اسلام لنڈی کوتل کے جنرل سیکرٹری عظیم شاہ شینواری، آل خیبر اتحاد کمیٹی کے چیئرمین حاجی خادم آفریدی، صدر رحمان اللہ آفریدی اور پاکستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے رکن علی رحمان شینواری نے خطاب کیا۔
حاجی خادم آفریدی نے کہا کہ ورسک ڈیم کی تعمیر کے وقت ضلع خیبر کے عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں ڈیم سے مفت بجلی فراہم کی جائے گی، تاہم کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ضلع خیبر کے عوام کو اپنے وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی کے ثمرات سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔
مقررین نے ٹیسکو کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل میں غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے، رات کے اوقات میں بجلی کی فراہمی کا شیڈول بحال کیا جائے، بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور پینے کے صاف پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر ملک زاہد شینواری نے کہا کہ اگر لنڈی کوتل میں بجلی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو مقامی عوام اپنے آئینی اور جمہوری حق کے تحت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔