بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں!
تحریر: عصمت اسامہ
بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں
تپتے صحراؤں میں یہ باد صَبا ہوتی ہیں
بیٹیاں باپ کی پَگھ ماں کی رِدا ہوتی ہیں!
ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ بیٹییاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ ہر گھر میں بچیاں، بہنیں، باجیاں مل کے بیٹھتیں، مرد حضرات ان کے احساسات کا خیال رکھتے، ان کی باتوں کے شور کو برداشت کرتے اور کبھی باتوں باتوں میں کوئی گہری نصیحت بھی کرجاتے۔ اللہ بخشے ہمارے ماموؤں نے ایک دوسرے کی بیٹیوں کے ویسے ہی ناز اٹھاۓ جیسے اپنی بیٹی کے۔ کسی فنکشن کے لئے سب کو ایک جیسے کپڑے سلوا کے دینا اب بھی بہت یاد آتا ہے۔
میری دادو جان کی عادت تھی محلے کی بچیوں کی خیر خبر رکھنا، کسی کے قرآن مکمل ہونے پر انعام دینا، کسی کے امتحان میں پاس ہونے پر مٹھائی لے جانا اور کسی کی منگنی شادی کے جہیز میں بغیر کہے اپنا حصہ ڈال آنا۔ ابو جی کی کسی رشتے دار سے ان بن ہوجاتی مگر اس کی بیٹی کی شادی میں پھر بھی ضرور جاتے اور یہی کہتے کہ بیٹییاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔
بیٹی کی رخصتی انسانی زندگی کا وہ حسین مگر المناک موڑ ہے جہاں خوشی اور غم کا ایک ایسا سنگم بنتا ہے جس کی مثال کسی اور رشتے میں نہیں ملتی۔ ایک باپ کے لیے بیٹی صرف جگر کا ٹکڑا نہیں بلکہ اس کے صحرا جیسے وجود میں ٹھنڈی چھاؤں ہوتی ہے، اور ماں کے لیے وہ اس کے اپنے بیتے ہوئے کل کا عکس اور روح کا حصہ ہوتی ہے۔ رخصتی کا لمحہ دراصل ایک ہی وقت میں دو مختلف دنیاؤں کو جینے کا نام ہے۔
ماں کے لیے یہ لمحہ اک عجیب امتحان بن جاتا ہے۔ گڑیا کے کپڑے سی کر پہنانے سے لے کر دلہن کے جوڑے کا ہر تار ٹانکنے تک، ماں کے ہاتھ مسلسل کام تو کرتے ہیں مگر دل گزرے ہوئے زمانوں کی گرد جھاڑ رہا ہوتا ہے۔ صحن میں پھیلی بیٹی کی ہنسی، اس کے نخرے، اور بات بات پر ماں سے لپٹ جانا—یہ سب یادیں دمِ رخصت ایک ہجوم کی صورت ماں کی ممتا کو گھیر لیتی ہیں۔ وہ چاہ کر بھی مسکرا نہیں پاتی، کیونکہ بیٹی کے ساتھ اس کی ایک سہیلی، ایک ساتھی بھی رخصت ہو رہی ہوتی ہے۔
دنیا جسے اک مضبوط، بے لچک اور چٹان جیسا انسان دیکھتی ہے، وہ باپ بیٹی کی رخصتی کے وقت اندر سے بالکل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ باپ کی محبت خاموش ہوتی ہے، وہ دعاؤں کا سایہ بن کر بیٹی کو پروان چڑھاتا ہے۔ لیکن جب وہی ہاتھ، جو بچپن میں انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے تھے، بیٹی کا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیتے ہیں، تو زمانوں کا ضبط ٹوٹنے لگتا ہے۔ وہ باپ جو ہمیشہ ہر مشکل کا مقابلہ مسکرا کر کرتا ہے، اس لمحے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی نظریں جھکا لیتا ہے تاکہ کوئی اس کے وہ آنسو نہ دیکھ لے جو اس کے گھر کی رونق کے رخصت ہونے پر بہہ رہے ہوتے ہیں۔
جب گاڑی موڑ کاٹ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے، تو والدین اپنے ہی گھر میں لوٹ کر ایک عجیب ویرانی کا سامنا کرتے ہیں۔ بیٹی کا کمرا، اس کا ڈریسنگ ٹیبل، اور صحن کی خالی چوکھٹ خاموشی سے ان کا منہ تکتی ہے۔
بیٹی کی رخصتی دراصل والدین کی اس بے لوث قربانی کا نام ہے جہاں وہ اپنے دل کا سب سے خوبصورت حصہ کسی اور کے حوالے کر دیتے ہیں—صرف اس امید اور دعا کے ساتھ کہ اس کی نئی دنیا ہستی، بستی اور پھولوں کی طرح مہکتی رہے۔
آئیے ان روایات کو زندہ رکھنے کا عزم کریں۔ یہ بیٹییاں تو چڑیاں ہوتی ہیں جنہوں نے ایک دن بابل کا گھر چھوڑ کے اڑ جانا ہوتا ہے۔ یہ تو تھوڑے عرصے کی مہمان ہوتی ہیں اور جب اپنی بیٹی کے اچھے نصیب کے لئے دعا مانگیں تو اس دعا میں سب کی بیٹیوں کو شامل کرلیا کریں، اس لئے کہ بیٹییاں تو سانجھی ہوتی ہیں!!