عقیدہ درست، انسان چست، شیطان سست
تحریر: ظفر اقبال ظفر
مسلمان ماؤں کا یہ اصول ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنے بچوں کو قرآن کی سورتیں سنایا کرتی ہیں۔ والدین بچوں کو خدا کے متعلق تسکین بخش کلمات دہرایا کرتے، وہ خدا کے افضل ترین جہانوں میں اپنی اولاد کے لیے جگہ بنایا کرتے ہیں۔ خدا کے محبوب ترین بندوں کی محبت و عقیدت سے بچوں کے دل سجایا کرتے تاکہ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جائیں، ان کے اندر رکھی مقدس عبادتیں، محبتیں، عقیدتیں بھی بڑی ہوتی جائیں۔ والدین بچوں کو اس حقیقت سے آشنا کرواتے ہیں کہ دنیاوی پریشانیوں کا شاہی علاج حقیقی مذہبی عقیدہ ہے۔
اس حقیقی مذہبی عقیدے کی تربیت میں ڈھلی رُوح پر دنیا کی ہر مصیبتیں، تکلیفیں، پریشانیاں، امتحان غالب نہیں آتے اور بندہ خدا کے بارے میں صاحب یقین رہتا ہے۔ میری امی جان گہرا، پائیدار اور ابدی یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ہم خدا سے محبت کریں، اس کے اور اس کے پیغمبر ﷺ کے احکامات کی تعمیل کریں تو اول و آخر سب ٹھیک ٹھاک رہے گا۔ انہوں نے اس عقیدے کے ساتھ حالاتِ زندگی سازگار بنائے رکھے، کشمکش اور دل برگشتگی کے تمام سالوں کے دوران کبھی پریشان و مایوس نہیں ہوئیں۔ خدا کے حضور سجدۂ شکر اور دعائیں بجا لا کر مصائب کو اپنی ایمانی قوت سے کمزور کیا۔
جو لوگ مذہب اسلام سے انسانی اہمیت کا باب تلاش کرکے نظریہ بناتے ہیں، وہ فرقوں، گروہوں، جماعتوں کے اختلافات میں دلچسپی لینے کی بجائے مذہب جو کچھ انسانیت کے لیے کرتا ہے، اس میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف حسین، خوش باش، عزت و کامیابی سے مکمل زندگی بسر کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ رُوحانی قدروں میں بھی اضافہ کرکے حسین تر اور مطمئن تر کیفیات سے مالا مال کرتا ہے۔ دین اسلام زمین پہ اترنے سے پہلے عالمِ ارواح میں پیغمبروں کے چشموں سے رضائے الٰہی کا آبِ حیات پی کر آیا ہے جو مجھے زندگی بسر کرنے میں نیا ولولہ، نیا جوش، یقین، امید، جرات دیتے ہوئے پریشانی، خوف، ڈر، تناؤ اور تشویش دُور کرتا ہے۔ اپنی راہنمائی میں میری زندگی کا مقصد اور راہیں متعین کرتے ہوئے خوشی، مسرت، صحت، تندرستی سے مالا مال کرتا ہے اور ہر قبول کرنے والے کو زندگی کے گرد باد اور ریتلے صحراؤں کے درمیان امن و تسکین کا نخلستان تخلیق کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پہلے لوگ سائنس اور مذہب کی آویزش کے متعلق باتیں کیا کرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے کیونکہ جدید سائنسی تحقیقی ترقی اور ماہرینِ علمِ امراض النفس وہی سکھا رہے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ اپنی اُمت کو بتا چکے ہیں۔ اب تو علمی و سائنسی ترقی پانے والے غیر مسلم بھی تصدیق کرنے لگے ہیں کہ نماز اور مستحکم دینی عقیدہ پریشانیوں، تشویشوں، ڈروں سمیت اعصابی کشمکشوں کو دُور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں دین اسلام کا پابند ہوتا ہے وہ اعصابی اور ذہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔ اگر مذہب سچا نہیں ہے تو دنیا بے معنی ہے اور اگر مذہب سچا ہے مگر ماننے والا سچا نہیں ہے تو آخرت بے معنی ہے۔ سچے دین کا سچا ماننے والا ہی دنیا و آخرت میں فائدہ اُٹھاتا ہے۔ نوے سالہ ایک خاموش، متین اور مطمئن شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے؟ اس نے جواب دیا: نہیں، میرا عقیدہ ہے کہ خدائے حقیقی قادر مطلق ہے۔ جب خدا ہر چیز پر مختار ہے تو آخر میں ہر چیز کا نتیجہ بہترین ہی ظاہر ہوگا، پھر مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
زمانۂ جہالت میں انسانی جانوں کو جھوٹے خداؤں پر وار دیا جاتا تھا، پھر سچے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک اُس حقیقی دین کی دعوت پہنچائی جو انسانوں کو نوازنے پر مبنی ہے، جس نے فراوانی کے ساتھ خوشحال زندگی کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ مذہب انسانوں کے لیے ہوتا ہے نہ کہ انسان مذہب کے لیے۔ مذہب کے نام پر انسانوں کو سولی پہ چڑھانے والوں کا راستہ روکا گیا۔ جھوٹے خداؤں کے پیروکاروں نے گناہوں کی بجائے خوف کا زیادہ استعمال کیا جبکہ خوف کا غلط پہلو گناہ ہی ہے۔ ان خوفزدہ گنہگاروں کو حسین تر، مکمل تر، خوش تر، بلند تر اسلامی زندگی کے علم سے آشنا کرکے زندگیاں بدل دی گئیں۔ چند نظریات کو ذہنی طور پر قبول کرکے کسی خاص اصول کو اختیار کرنے سے مذہبی پابندی نہیں ہوتی۔ سچا مذہبی بننے کے لیے ایک مخصوص رُوح کا مالک ہونا اور ایک مخصوص زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر آدمی کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا خدا پر یقین بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
میں نے جب یقین کے پیالے کو دعا کے ہاتھوں سے خدا کی جانب کیا تو وہ مراد سے بھر گیا اور میں المناک گمراہی پر شرمندہ بھی ہوا کہ میں اپنی ساری کٹھن اور جگر گزار لڑائیاں تنہا ہی سر کرنے میں لگا رہا۔ میں نے دُعا کے ذریعے ہر بات خدا تک کیوں نہیں پہنچائی۔ ہماری زندگی کے تاریک لمحات صرف وقتی و عارضی ہوتے ہیں جنہیں دُعا کے ذریعے سہانے اور تابناک مستقبل میں بدلا جا سکتا ہے۔ تلخ حالات کی زد میں زندگی کے خاتمے تک پہنچنے والی سوچ کو دُعا جینے کی سمت پر ڈال دیتی ہے۔ دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہبی نقطۂ نظر سے مل جاتا ہے۔ لوگ اس لیے رُوحانی و جسمانی طور پر بیمار ہوئے کیونکہ وہ اس چیز سے محروم ہو چکے تھے جو ہر زمانے کے زندہ مذہب نے اپنے پیروکاروں کو دی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی صحت یاب نہ ہو سکا جب تک اس نے دوبارہ مذہب سے رجوع نہ کیا۔ ایمان خدائی قوتوں میں سے ایک قوت ہے جن کے سہارے انسان زندہ رہتا ہے اور اس کی عدم موجودگی کا نتیجہ شکست اور انحطاط ہوتا ہے۔
ذکر و اذکار زندگی بخش قوت سے فیض یاب کرتے ہیں۔ وہ ہزاروں مصیبت زدہ رُوحیں جو پاگل خانوں میں چلا رہی ہیں امن و سکون کی زندگی بسر کر سکتی تھیں اگر انہوں نے اپنی ذہنی جنگیں تنہا لڑنے کی بجائے اعلیٰ، بلند و برتر خدائی طاقت سے مدد مانگی ہوتی۔ ابدی و غیر فانی عظیم رُوحانی حقیقتوں اور سچائیوں کو یاد کرنے سے اعصاب کو سکون، جسم کو آرام اور تناظر وسیع ہوتا ہے۔ اپنی قوتوں کو نئی قدریں متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔
