اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) نئے سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کے بعد حکومت نے پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ معاملہ نیپرا میں بجلی کے نئے ٹیرف کے لیے پاور ڈویژن کی درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا، جس کی صدارت چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کی۔

اجلاس میں نئے ٹیرف کے ڈھانچے پر غور کیا گیا، جس میں پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ماہانہ فکسڈ چارجز کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے حکام نے نیپرا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ماہانہ 300 یونٹ تک گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز دونوں پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو کیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق، پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے تجویز کردہ فکسڈ چارجز یہ ہیں:
100 یونٹ تک استعمال: 200 روپے ماہانہ
200 یونٹ تک استعمال: 300 روپے ماہانہ

نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے تجویز کردہ فکسڈ چارجز:
100 یونٹ تک: 275 روپے ماہانہ
200 یونٹ تک: 300 روپے ماہانہ
300 یونٹ تک: 350 روپے ماہانہ
301 سے 400 یونٹ: 400 روپے
401 سے 500 یونٹ: 500 روپے
600 یونٹ: 675 روپے (75 روپے اضافہ)
700 یونٹ: 675 روپے (125 روپے کمی)
700 یونٹ سے زائد: 675 روپے (325 روپے کمی)

اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ کراس سبسڈی کو کم کیا جائے تاکہ بجلی کے نرخ زیادہ منصفانہ اور شفاف ہوں۔ نیپرا نے اس تجویز پر غور کے بعد حتمی فیصلے کا عمل شروع کر دیا ہے اور مستقبل میں تمام صارفین پر عائد ہونے والے ٹیرف میں تبدیلی کے لیے مشاورت جاری رہے گی۔

ذرائع کے مطابق، نئے فکسڈ چارجز کا مقصد صارفین کے لیے بجلی کے استعمال میں شفافیت پیدا کرنا اور پروٹیکٹڈ صارفین کو بھی نئے ریگولیشنز کے دائرے میں لانا ہے تاکہ تمام افراد مساوی اصولوں کے تحت بجلی کے بل ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے