واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باقاعدہ میٹنگ رواں ماہ کی 19 تاریخ کو واشنگٹن میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس اہم اجلاس کے لیے تمام متعلقہ ارکان کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ اس میٹنگ کی میزبانی امریکی صدر اور بورڈ کے چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ، بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کریں گے۔
غزہ بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور جنگ زدہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ ‘غزہ ڈیل’ کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔ اگرچہ اجلاس کا باقاعدہ ایجنڈا تاحال خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم توقع ہے کہ اس میں غزہ کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب، برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے اس پیس بورڈ کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ اس طرح کے بورڈ کا قیام اقوام متحدہ کی حیثیت اور عالمی کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ یورپی ممالک کی اس مخالفت کے باوجود امریکی انتظامیہ بورڈ کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے 25 ممالک نے اب تک غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم، جو آغاز میں اس منصوبے پر کڑی تنقید کر رہے تھے، اب وہ بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ واشنگٹن میں ہونے والا یہ اجلاس خطے میں قیامِ امن اور غزہ کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔