لندن: (کیو این این ورلڈ) سابق انگلش کپتان ناصر حسین بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے دوہرے معیار کے خلاف بول پڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی سی سی نے پاکستان اور بنگلادیش کو دبانے کا رویہ جاری رکھا تو اس کے نتیجے میں عالمی کرکٹ کو شدید نقصان پہنچے گا۔

ناصر حسین نے سوال اٹھایا کہ اگر بنگلادیش کی جگہ بھارت وینیو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا تو آئی سی سی کیا ردِعمل دیتا؟ کیا آئی سی سی بھارت کو بھی ایونٹ سے باہر کر دیتا؟ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو پاکستان اور بنگلادیش کے ساتھ بھی وہی برابری کا رویہ اپنانا ہوگا جو بھارت کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔

سابق انگلش کپتان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش اپنی بات پر قائم رہا اور اس نے اپنے کھلاڑیوں کے لیے مؤقف اختیار کیا، جبکہ پاکستان نے بنگلادیش کا ساتھ دے کر ایک مثبت اور درست قدم اٹھایا۔ ان کے مطابق کسی نہ کسی کو کھڑا ہو کر یہ کہنا ہوگا کہ سیاست بہت ہو چکی، اب کرکٹ کو کھیلنے دیا جائے۔

ناصر حسین نے مزید کہا کہ بھارت نے اچانک سیاسی دباؤ کے تحت مستفیض کو باہر کر دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کرکٹ میں سیاست داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ہاتھ نہیں ملائے جاتے، کبھی ٹرافی لینے سے انکار کیا جاتا ہے، یہ سب کھیل کے لیے نقصان دہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اور بنگلادیش کو دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو کرکٹ تباہ ہو جائے گی، جبکہ پاکستان اتنی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے