اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ارضِ پاک کی شہ رگ اور جنت نظیر وادی کشمیر کے مظلوم و بہادر عوام سے لازوال محبت اور غیر متزلزل وابستگی کے اظہار کے لیے آج ملک بھر میں "یومِ یکجہتی کشمیر” روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیریوں کی کئی دہائیوں پر محیط جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور عالمی برادری کو ان کے حقِ خودارادیت کے وعدے یاد دلانا ہے۔ دن کے آغاز پر ملک بھر میں عام تعطیل ہے جبکہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں صبح نو اور دس بجے کے درمیان سائرن بجائے جائیں گے، جس کے فوراً بعد کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
یومِ یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے آج پورے ملک میں خصوصی تقاریب، سیمینارز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے تمام اہم راستوں اور پلوں پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو کر ‘انسانی ہاتھوں کی زنجیر’ بنائے گی، جو اس بات کی علامت ہے کہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ سیاسی محاذ پر آج آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف خود مظفر آباد پہنچیں گے اور کشمیری قیادت و عوام سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
اس تاریخی موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغامات میں کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ یہ دن کشمیری بھائیوں سے کیے گئے اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم ہر فورم پر ان کی آواز بنیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی پشت پر کھڑی ہے اور بھارت کا کوئی بھی جبر اس جذبے کو دبا نہیں سکتا۔
پاکستانی افواج کے سربراہان نے بھی کشمیری عوام کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف اور ایئر چیف نے اپنے مشترکہ پیغام میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ ترجمان پاک فوج (آئی ایس پی آر) کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور معصوم شہریوں کی گرفتاریاں کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتیں۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے وادی کا آبادیاتی تناسب اور سیاسی تشخص تبدیل کرنے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اولین شرط ہے اور عالمی برادری کو کشمیریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے اب الفاظ کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔