واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی جریدے "فارن پالیسی” نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ گہری نظریاتی اور عملی قربت کے باعث ان کے خلاف کسی بھی قسم کی ٹھوس کارروائی کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود افغان طالبان اپنی صفوں میں موجود ہمدردی کی وجہ سے ٹی ٹی پی کو لگام دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ جریدے نے واضح کیا کہ قطر، ترکیے اور سعودی عرب جیسے ممالک کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششیں بھی افغان طالبان کو اس معاملے پر رضامند کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

رپورٹ میں یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ کابل اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے پاک افغان کشیدگی کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا ہے۔ جریدے کا ماننا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کو اپنی داخلی ساکھ مضبوط کرنے اور افغان عوام میں خود کو ایک آزاد قوت کے طور پر پیش کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور طالبان کے ساتھ سفارتی روابط نے پاکستان کے تحفظات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے خطے کا سیاسی نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

فارن پالیسی نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پاک بھارت تنازع روایتی طور پر عدم استحکام کا باعث رہا ہے، لیکن اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کسی بڑے مسلح تصادم کی صورت اختیار کر گئی تو اس کے نتائج انتہائی ہولناک ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال میں خطے میں دہشت گردی کا دائرہ کار خطرناک حد تک پھیل سکتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن جائے گا۔ جریدے نے مزید تنبیہ کی کہ اس تنازع کی شدت جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور خطے میں وسیع پیمانے پر افراتفری کو ہوا دے سکتی ہے جس کا فائدہ انتہا پسند گروہ اٹھا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے