لاہور (کیو این این ورلڈ)بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں اور بیٹی کے نالے میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ پولیس نے کیس میں نامزد ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا، جہاں عدالت نے ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس مگھیانہ نے مقدمے کی سماعت کی۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تاہم وکیلِ صفائی نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو بعدازاں سنا دیا گیا۔

عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان میں پروجیکٹ منیجر اصغر علی، سیفٹی انچارج محمد ہنزلہ، سائٹ انچارج احمد نواز، کمپنی کے ڈائریکٹر سلمان یاسین اور عثمان یاسین شامل ہیں، جنہیں ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا۔

دورانِ سماعت وکیلِ ملزمان نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک کروڑ روپے ادا کر دیے گئے ہیں اور مزید بارہ کروڑ روپے کمپنی اکاؤنٹ میں موجود ہیں۔ وکیل نے کہا کہ مقدمے میں دفعہ 322 کے تحت معاملہ دیت کا ہے۔ اس پر سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریمارکس دیے کہ مقدمے میں دفعہ 316 بھی شامل کی جا چکی ہے، جس کے بعد کیس کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے۔

وکیلِ ملزمان نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان متاثرہ خاندان اور عدالت سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ بھاٹی گیٹ میں مقدمہ درج ہے اور تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھاٹی گیٹ واقعے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پہلے ہی غلطی کا اعتراف کر چکی ہیں اور ذمہ داروں کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں اور اتنی بڑی آبادی میں اس طرح کا سانحہ ہونا حکمرانوں کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے نہ صرف اس واقعے کو تسلیم کیا بلکہ عوام سے معذرت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا کہ تمام حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں، مگر مریم نواز کا مؤقف واضح ہے کہ کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی اور جو بھی ذمہ دار ہوگا اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج میں کچھ دن قبل ایک رکشہ ڈرائیور کو صبح چار بجے کے قریب اپنی فیملی کے ہمراہ آ کر مین ہول کے لوہے کے کور اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا، جو نشئی افراد کے ذریعے چوری کیے جانے کا ثبوت ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب خصوصی اور اسٹینڈرڈ مین ہول کور تیار کیے جائیں گے، جن کی مارکیٹ میں خرید و فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ جو شخص مین ہول کور بیچے گا یا خریدے گا، دونوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے