شورکوٹ (کیو این این ورلڈ) لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں انتظامی غفلت کے باعث سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی بدنصیب ماں اور معصوم بیٹی کی لاشیں ان کے آبائی علاقے شورکوٹ پہنچا دی گئی ہیں۔ میتیں گھر پہنچنے پر پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار دکھائی دی، جاں بحق ہونے والی خاتون اور ان کی بیٹی کی نمازِ جنازہ آج ادا کی جائے گی جس میں علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

دوسری جانب اس المناک واقعے کا مقدمہ متوفی خاتون کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں مجرمانہ غفلت برتنے پر پراجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نامزد تینوں افسران کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ٹیپا (TEPA) کی جانب سے کنسلٹنٹ ادارے نیسپاک کو بھی اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک روز میں جواب طلب کر لیا گیا ہے۔

حادثے سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ خاندان کے پانچ افراد داتا دربار پر حاضری کے لیے آ رہے تھے، تاہم ماں اور بیٹی دربار کے اندر داخل نہیں ہوئی تھیں اور باہر ہی اس مہلک حادثے کا شکار ہو گئیں۔ فوٹیج سامنے آنے کے بعد انتظامیہ کے ان دعوؤں کی مکمل نفی ہو گئی ہے جن میں واقعے کے وجود سے ہی انکار کیا جا رہا تھا، اب پولیس ان ویڈیوز کی روشنی میں مزید قانونی تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے