اسلام آباد(کیو این این ورلڈ)نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ آٹھ بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد انتہائی سوچ سمجھ کر کیا، اور اس فورم کے تحت پاک فوج حماس، فلسطین یا کسی بھی مسلمان کے خلاف کسی صورت استعمال نہیں ہوگی۔ یہ وضاحت اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ کے دوران دی گئی۔

عسکری ذرائع کے مطابق حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کے لیے ایک ریڈ لائن ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کا مقصد سیاسی اور سفارتی راستے سے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے، نہ کہ کسی اسلامی یا مزاحمتی گروہ کے خلاف فوجی کارروائی۔

ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کو روکنے کی صلاحیت صرف امریکا کے پاس ہے، مگر عالمی سطح پر ناکامی کے بعد سیاسی راستہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان نے ہمیشہ اسرائیلی بربریت کی مخالفت کی ہے اور ایران پر حملے کے وقت بھی اس کا ساتھ دیا۔

عسکری ذرائع نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس اور انٹرنیشنل سیکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے مینڈیٹ الگ الگ ہیں اور پاکستان کی فوج حماس یا حزب اللہ کے خلاف کسی بھی فورس کا حصہ نہیں بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسائل ایک جیسے ہیں، فلسطین مسلسل سکڑ رہا ہے مگر پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان سلامتی کونسل کا عارضی رکن ہے جہاں مسلم ممالک مل کر مؤقف اختیار کرتے ہیں اور غزہ کا مسئلہ صرف بات چیت اور سیاسی حل سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی مضبوط ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے اطمینان کا باعث ہیں۔

داخلی امور پر بات کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیت درست ہونا ضروری ہے، بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز ہو رہے ہیں اور بھارتی خواہشات کے باوجود کراچی اور گوادر میں دہشت گردی کی کوششوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف ریاست اور آئین کے تحت اپنا کام کر رہی ہے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو میں عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان کو ٹی ٹی پی قیادت پاکستان کے حوالے کرنے کا کہا گیا مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، اور اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان کے لیے دین سے زیادہ پیسہ اہم ہو گیا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور مستقبل میں بھی اسی پالیسی پر قائم رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے