لاہور (کیو این این ورلڈ) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11 ویں ایڈیشن کے حوالے سے پی سی بی گورننگ کونسل کے اہم اجلاس میں ایونٹ کا آغاز 26 مارچ سے کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے، جبکہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے لیگ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے اوپن آکشن فارمولہ اپنانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اجلاس میں، جس میں دو نئی ٹیموں کے مالکان سمیت تمام فرنچائز نمائندوں نے شرکت کی، سب سے اہم نکتہ کھلاڑیوں کے انتخاب کا طریقہ کار رہا۔ چیئرمین بورڈ محسن نقوی نے ٹیم اونرز کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ روایتی ڈرافٹ کے بجائے اوپن آکشن (بولی) کا نظام اپنایا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیتوں کا بہتر معاوضہ مل سکے اور لیگ کا معیار مزید بلند ہو۔ ذرائع کے مطابق بعض فرنچائز مالکان نے اس تجویز کی حمایت کی ہے جبکہ دیگر اب بھی ڈرافٹ سسٹم کو ہی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، جس پر مزید مشاورت جاری رہے گی۔

اجلاس کے دوران پلیئرز ریٹینشن (کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے) کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا۔ موجودہ نظام کے تحت ہر ٹیم کو 8 کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت ہے، تاہم دو نئی ٹیموں کے اضافے کے بعد پی سی بی نے تجویز دی ہے کہ ہر ٹیم صرف 3 کھلاڑی ریٹین کرے تاکہ نئی ٹیموں کو بھی تگڑے کھلاڑی دستیاب ہو سکیں۔ اس کے برعکس پرانی فرنچائزز 5 کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں جبکہ نئی فرنچائزز چاہتی ہیں کہ تمام کھلاڑیوں کو دوبارہ پول میں لایا جائے تاکہ برابری کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی جا سکیں۔ گورننگ کونسل کا اجلاس ہفتے کو بھی جاری رہے گا جس میں ریٹینشن پالیسی اور آکشن فارمولے پر حتمی فیصلے متوقع ہیں۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کے لیے پہلے 23 مارچ کی تاریخ زیرِ غور تھی لیکن اب تمام اسٹیک ہولڈرز نے 26 مارچ پر اتفاق کر لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے