اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف آج ایک پروقار تقریب میں "صحت کارڈ پروگرام” کا باضابطہ افتتاح کریں گے، جس کے تحت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لاکھوں شہریوں کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر مفت علاج کی معیاری سہولیات میسر آئیں گی۔ اس نئے پروگرام کی مدت 30 جون 2027 تک رکھی گئی ہے، جس کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کو علاج معالجے کے بھاری اخراجات سے نجات دلانا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، آج سے ہی ملک بھر کے 640 سے زائد نامزد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے ذریعے مفت سہولیات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں کینسر، امراضِ قلب، ذیابیطس، گردوں کے امراض اور حادثات کی صورت میں ہنگامی طبی امداد مکمل طور پر مفت فراہم کی جائے گی۔

تقریباً دو سال قبل "صحت سہولت کارڈ” کے معطل ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں کے شہری شدید مشکلات کا شکار تھے، تاہم اب وفاقی حکومت نے 41 ارب روپے کی لاگت سے "یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام” کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر رجسٹرڈ خاندان کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق، پروگرام کو شفاف بنانے کے لیے نجی ہسپتالوں کی سخت مانیٹرنگ کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ صرف اپنا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ دکھا کر ہسپتالوں میں داخلہ اور مفت ادویات حاصل کر سکیں۔

وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی دوبارہ بحالی سے نہ صرف سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ دور دراز علاقوں کے مریضوں کو اپنے قریبی بہترین نجی ہسپتالوں سے علاج کروانے کا موقع ملے گا۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صحت کارڈ کی فراہمی میں کسی قسم کی سیاسی تفریق نہیں برتی جائے گی اور میرٹ کی بنیاد پر ہر مستحق شہری کو اس سہولت تک رسائی دی جائے گی۔ یہ منصوبہ وفاقی حکومت کے عوامی فلاحی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے جس سے صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے