نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوامِ متحدہ میں ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین نے سلامتی کونسل کو دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تصادم کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو "امریکی رجیم” قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ 12 روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اب وہ ایران میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے وہی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایرانی نائب مندوب نے انکشاف کیا کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران ایران کو داعش طرز کی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں منظم طریقے سے لوگوں کے سر قلم کیے گئے، شہریوں کو زندہ جلایا گیا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ مداخلت کے لیے من پسند بہانہ تلاش کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے تحفظ یا عوام کی حمایت کے نام پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دینا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

غلام حسین نے واضح کیا کہ انسانی ہمدردی کے لبادے میں طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا عالمی قوانین کا دانستہ غلط استعمال ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ جارحانہ عمل کا جواب اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انتہائی فیصلہ کن انداز میں دے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ محض دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بیان ہے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری جارحیت کرنے والوں پر ہوگی۔ ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایسے غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر مسترد اور ان کی مذمت کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے