اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں ملک کی تاریخ کا ایک بڑا مالی سکینڈل بے نقاب ہوا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیر فعال بجلی کی مد میں 2.2 کھرب روپے وصول کر لیے گئے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر عبدالقادر نے نیپرا حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انکشاف کیا کہ صارفین سے اس بجلی کے پیسے لیے جا رہے ہیں جو کبھی سسٹم میں پیدا ہوئی اور نہ ہی استعمال کی گئی، بلکہ محض کیپیسٹی چارجز کے نام پر 2200 ارب روپے کی خطیر رقم آئی پی پیز کی جیبوں میں ڈالی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے اسے عوام کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے آئی پی پیز کے تمام پاور پلانٹس، ان کی اراضی، ایندھن اور مشینری کے مکمل فرانزک آڈٹ کی متفقہ سفارش کر دی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ قوم کی کتنی دولت ان منصوبوں کی نذر کی گئی۔

اجلاس کے دوران کراچی کے معروف تاجر زبیر موتی والا نے کے الیکٹرک کے حوالے سے حیران کن انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ حکمِ امتناعی (اسٹیے آرڈرز) حاصل کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک ہے، جس نے نیپرا کے ہر عوامی فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کر کے روک رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی سے ستمبر تک کے مختصر عرصے میں گردشی قرضہ 79 ارب روپے تک بڑھ چکا ہے، جبکہ حکومتی پالیسیاں ایسی ہیں کہ بل بھرنے والے صارفین کو بجلی چوروں کی سزا دی جا رہی ہے۔ رکنِ سندھ اسمبلی شارق جمال نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی میں سردی کے باوجود 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور پاور کمپنیوں کے افسران جرمانے بھرنے کو تیار ہیں لیکن عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

کمیٹی کے چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیپرا سے کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق دو سال سے دبی ہوئی سروے رپورٹ دو دن کے اندر طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ پاور کمپنیوں پر جرمانے کی حد کروڑوں سے بڑھا کر اربوں میں کی جائے تاکہ وہ عوام کا استحصال بند کریں۔ اس کے علاوہ سینیٹر عبدالقادر نے تجویز پیش کی کہ کے الیکٹرک کو ملنے والے حکمِ امتناعی کے خلاف عوامی ردعمل اور منتخب نمائندوں کے خطوط چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو بھیجے جائیں تاکہ اعلیٰ عدلیہ کو اس بڑی ناانصافی اور عوامی غم و غصے سے آگاہ کیا جا سکے اور غریب عوام کی جیبوں پر ڈالے جانے والے اس کھربوں روپے کے ٹیکے کا تدارک ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے