راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ان کے شوہر کو 28 جنوری کو پھانسی دی جا سکتی ہے، لہٰذا عالمی برادری ان کی رہائی کے لیے فوری مداخلت کرے۔ راولپنڈی کے راجہ بازار میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اور وہ صرف اپنے شوہر کی جنگ نہیں بلکہ کشمیر کے لاکھوں شہداء کے خون کا مقدمہ لڑنے کے لیے نکلی ہیں۔ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک کوئی سیاسی کھیل نہیں بلکہ یہ قربانی اور انسانیت کی عظیم تحریک ہے، کشمیری اور فلسطینی اس وقت حق و باطل کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں مقبوضہ کشمیر میں بدترین نسل کشی جاری ہے جہاں کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال کی جا رہی ہیں، لاکھوں نوجوانوں کو شہید اور ہزاروں کو لاپتہ کر دیا گیا ہے جبکہ مساجد کی بے حرمتی اور انہیں شہید کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مشعال ملک نے یاسین ملک کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ساڑھے چھ سال سے تنہائی کے سیل میں قید ہیں، جہاں انہیں وکیل سے مشورے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خاموشی ظلم کو طاقت دیتی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ خوف کے بت توڑ کر بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے کیونکہ یہ جنگ انسانیت کی بقا اور حقِ خودارادیت کی جنگ ہے۔