نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارتی دارالحکومت کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں طلبہ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی ہے، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے دہلی پولیس کو باقاعدہ خط لکھ کر نعرے بازی میں ملوث طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ نعرے بازی جمہوری اختلاف کے دائرے سے تجاوز کر چکی ہے اور اس سے کیمپس کی ہم آہنگی اور یونیورسٹی کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طویل عرصے سے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا مرکز رہی ہے، خاص طور پر طلبہ رہنماؤں عمر خالد اور شرجیل امام کی گرفتاری کے بعد سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کو 2020 کے دہلی فسادات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 5 سال سے بغیر کسی باقاعدہ مقدمے کے جیل میں قید ہیں، جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ تازہ ترین نعرے بازی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں طلبہ اپنے رہنماؤں کی طویل قید اور حکومتی رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔