نئی دہلی(کیو این این ورلڈ) پاکستان کے خلاف جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی فوج نے اپنی دفاعی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ لانچر ’سوریاستر‘ کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 293 کروڑ روپے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فوج نے ہنگامی خریداری کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے پونے کی نجی دفاعی کمپنی ’این آئی بی ای‘ لمیٹڈ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت فوج کو جدید ترین راکٹ لانچر سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ اس اہم دفاعی منصوبے میں اسرائیلی دفاعی کمپنی ’ایلبٹ سسٹمز‘ بھی بطور شراکت دار شامل ہے جو اس ٹیکنالوجی کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔
یہ جدید راکٹ لانچر سسٹم 150 سے 300 کلومیٹر تک کے فاصلے پر ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے بھارت کا پہلا مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ ’یونیورسل ملٹی کیلیبر راکٹ لانچر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور زمین سے زمین تک درست حملے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی کمپنی نے اس پیش رفت کی تصدیق اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردہ خط میں کر دی ہے، جس کے مطابق معاہدے میں راکٹ لانچر سسٹم کے زمینی آلات اور گولہ بارود کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ماہرین اسے بھارتی فوج کی جانب سے اپنی ناکامیوں کا ملبہ ٹیکنالوجی پر ڈالنے اور حواس باختہ دفاعی حکمت عملی کو بہتر بنانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔