اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے سال 2025 کے اختتام پر ملک میں جمہوریت کے معیار پر اپنی سالانہ جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جمہوری ادارے برقرار تو رہے مگر عملی طور پر ان کی قوت میں واضح کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 میں پاکستان میں ہائبرڈ طرزِ حکمرانی کو مزید استحکام حاصل ہوا اور پاک بھارت حالیہ تصادم کے بعد ریاستی امور میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ رپورٹ کے مطابق سویلین حکومت نے ہائبرڈ نظام کی مکمل حمایت کی، جبکہ علاقائی کشیدگی اور داخلی شورش نے ملک کو بتدریج ایک "سکیورٹی اسٹیٹ” کی طرف دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں جمہوری ادارے سکیورٹی ترجیحات کے دائرے میں کام کرنے پر مجبور رہے۔
پلڈاٹ کی رپورٹ میں پارلیمانی اور عدالتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی محدود بحث کے ساتھ منظوری نے پارلیمنٹ کو کمزور کیا، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے خالی رہنے سے جمہوری عمل متاثر ہوا۔ عدلیہ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں عدالتی نظام کو بڑی ساختی تبدیلیوں، فوجی عدالتوں کے تسلسل اور نئی آئینی عدالت کے قیام جیسے چیلنجز کا سامنا رہا، جس سے شفاف انصاف کی فراہمی پر سوالات اٹھے۔ مزید برآں، پیکا قانون میں ترامیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی کو مزید سلب کیا گیا اور اختلافِ رائے کو قومی مفاد کے منافی قرار دینے کا رجحان غالب رہا۔ رپورٹ میں مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی اور سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت کے فقدان کو نچلی سطح پر جمہوریت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔