واشنگٹن/نئی دہلی(کیو این این ورلڈ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار کے آغاز کو تقریباً ایک سال مکمل ہو چکا ہے، اور اس دوران امریکا اور بھارت کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سردمہری نے بھارت کی معیشت، خارجہ پالیسی اور طاقتور کاروباری طبقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیاں، بھارت کی روس سے تیل کی خریداری اور مودی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی داخلی حکمتِ عملی اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات ہیں، جن کے باعث واشنگٹن اب بھارت کو خطے میں قابلِ اعتماد اتحادی تصور نہیں کرتا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا کی ناراضی کا ایک بڑا سبب بھارت کی جانب سے روس سے رعایتی خام تیل کی مسلسل خریداری بنی۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر کھل کر برہمی کا اظہار کیا اور اگست 2025 میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیے۔ یہ اقدام بھارتی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا، خاص طور پر مکھیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے لیے، جس نے 2022 سے روسی خام تیل کی پروسیسنگ کے ذریعے تقریباً 6 ارب ڈالر کمائے تھے۔ امریکی دباؤ اور پابندیوں کی تعمیل کے نتیجے میں ریلائنس کو روس سے تیل کی خریداری روکنا پڑی۔

اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے، جو مودی اور ٹرمپ کے ذاتی مراسم کے باوجود بھارت کے لیے ایک غیر متوقع پیش رفت تھی۔ اگست 2025 میں نئی دہلی پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کا جھکاؤ پاکستان کی جانب نظر آیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی داخلی پالیسیاں بھی امریکا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ کی بڑی وجہ بنیں۔ امریکا میں ہندو نیشنلزم اور مودی کی اسلام مخالف پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید کمزور ہوئے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) کے مطابق ہندو قوم پرست قوتوں کی سرپرستی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اقلیتوں کے حقوق کو متاثر کر رہی ہے، جو امریکا کی انسانی حقوق پر مبنی خارجہ ترجیحات سے متصادم ہے۔ دسمبر 2025 میں امریکی کانگریس مین راجہ کرشنامورتی نے خبردار کیا کہ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے باعث امریکا–بھارت تعلقات ایک سرد مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہندوتوا کے اثرات کے باعث امریکا میں انٹی ہندو مظاہروں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جس سے دوطرفہ شراکت داری کو مزید خطرات لاحق ہو گئے۔

بھارت کی متضاد خارجہ حکمتِ عملی، بالخصوص روس کے ساتھ قریبی تعلقات اور یوکرین جنگ میں غیر جانبدار مؤقف، نے بھی واشنگٹن کی ناراضی میں اضافہ کیا۔ ماہرین کے مطابق امریکا بھارت سے واضح صف بندی کی توقع رکھتا تھا، جو پوری نہ ہو سکی۔

اس کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان بھارت کے ارب پتی طبقے کو اٹھانا پڑا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق مکھیش امبانی اور گوتم اڈانی جیسے بااثر کاروباری افراد نے ٹرمپ انتظامیہ کو متاثر کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر لابنگ فرموں پر خرچ کیے، مگر ذاتی تعلقات اور مہنگی لابنگ بھی امریکی پالیسیوں کو تبدیل نہ کر سکیں۔ امبانی نے صرف 2025 میں تقریباً 240 ہزار ڈالر لابنگ پر خرچ کیے، جن میں ٹرمپ خاندان سے روابط بھی شامل تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے امبانی کی ریفائنری کا دورہ کیا، جبکہ ایرک ٹرمپ نے بھارتی ہوٹل منصوبوں پر کام کا ذکر کیا جہاں ٹرمپ آرگنائزیشن کو 10 ملین ڈالر کی ڈویلپمنٹ فیس ملنا تھی۔ اس کے باوجود ٹرمپ کی پالیسیوں میں کوئی نرمی نہ آئی، اگرچہ وہ امبانی کو ذاتی طور پر دوست سمجھتے رہے۔

گوتم اڈانی کے خلاف جاری مقدمات اس حقیقت کی نمایاں مثال ہیں۔ نومبر 2024 میں امریکی ڈپارٹمنٹ آف جسٹس (DOJ) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر افراد پر 250 ملین ڈالر سے زائد کی رشوت ستانی کا الزام عائد کیا۔ الزام کے مطابق بھارتی حکام کو سولر پاور کنٹریکٹس کے حصول کے لیے رشوت دی گئی، جو فارن کرپٹ پریکٹسز ایکٹ (FCPA) کی خلاف ورزی ہے۔ اڈانی گروپ نے کم از کم 150 ہزار ڈالر لابنگ اور قانونی اخراجات پر خرچ کیے، جن میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے وفد کی میزبانی بھی شامل تھی، تاہم ٹرمپ سے مضبوط ذاتی روابط نہ ہونے کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اکتوبر 2025 میں ایس ای سی نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکام اڈانی کو سمنز تک پہنچانے میں ناکام رہے، جس سے مقدمہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اگرچہ اڈانی گروپ کی امریکا میں کاروباری موجودگی محدود ہے اور سولر ماڈیول سیلز سے منافع دو فیصد سے بھی کم ہے، تاہم مستقبل میں نئی سرمایہ کاری کے منصوبے زیر غور ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ اور مودی کے درمیان ٹیرف تنازعات کے دوران براہِ راست رابطہ بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہا۔ کارنیگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیاں امریکا–بھارت کے پچیس سالہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایچ-1بی ویزا پالیسیوں، تجارتی پابندیوں اور سخت امریکی مؤقف نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا۔ ماہرین، جن میں بھاسکر چکرورتی شامل ہیں، اس صورتحال کو ’’پرفیکٹ لیٹ ڈاؤن سٹارم‘‘ قرار دیتے ہیں، جہاں مضبوط کاروباری روابط بھی سفارتی تعلقات کو بچانے میں ناکام رہے۔ 2025 کو تجارت میں ہنگامہ خیزی کا سال قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو نمایاں کرتی ہے۔ امریکا اب بھارت کو خطے کے معاملات سنبھالنے والا مرکزی شراکت دار نہیں سمجھتا، جبکہ بھارت متبادل تجارتی معاہدوں کی تلاش میں ہے۔ ٹرمپ کی ’’ریئل پولیٹک‘‘ نے بھارتی حکومت اور ارب پتیوں کو یہ سبق دیا ہے کہ لابنگ اور ذاتی تعلقات ہر بار کامیاب نہیں ہوتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے