افغانستان سے ہونے والی غیر قانونی دراندازی اور وہاں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس خطے کے ممالک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جس پر ہمسایہ ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی جریدے "ایران انٹرنیشنل” کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد افغان شہری غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 40 افراد کی ہلاکت اور کئی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ 15 لاشیں کوہسان اور ادرسکن اضلاع میں منتقل کی جا چکی ہیں۔ یہ افغان باشندے اسلام قلعہ کے راستے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سرحدی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایرانی سرحدی حکام کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر تک غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے واقعات میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ رواں برس اب تک 16 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو ایران سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی خدشات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ایرانی حکام نے حالیہ 12 روزہ تنازعے کے دوران بعض افغان شہریوں کے اسرائیل کے لیے جاسوسی میں ملوث ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ان بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر عالمی نشریاتی ادارے "کیسپین نیوز” کا کہنا ہے کہ ایران نے رواں سال 300 کلومیٹر طویل سرحدی باڑ کی تعمیر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

ماہرینِ امورِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود منظم دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان بھی اس حوالے سے کئی بار عالمی برادری کی توجہ مبذول کروا چکا ہے اور ٹھوس شواہد فراہم کر چکا ہے کہ کس طرح افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور غیر قانونی نقل و حرکت کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، تب تک خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے سخت اقدامات اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اب یہ مسئلہ پورے خطے کے لیے ایک مشترکہ چیلنج بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے