امریکی مڈٹرم انتخابی نتائج
تحریر ۔ سـید نـذیـر شـاہ
تاریخ خود کو حرف بہ حرف نہیں دہراتی، لیکن اس کے انداز، اسباق اور نتائج حیرت انگیز حد تک ایک جیسے ہوتے ہیں۔ 3 نومبر 2026ء کے امریکی وسط مدتی انتخابات اور ان کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل نے ماضی کے دو بڑے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے، جنہوں نے اپنے وقت میں عالمی طاقت کے توازن اور حکمرانوں کی قسمت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ پہلا واقعہ 1956ء کا نہر سویز بحران ہے، جب برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔ بظاہر یہ ایک طاقتور فوجی اتحاد تھا، لیکن سفارتی دباؤ اور مالی مشکلات نے برطانیہ کو جلد ہی پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ پسپائی صرف ایک جنگی ناکامی نہیں تھی، بلکہ برطانوی عالمی طاقت کے زوال کی ایک واضح علامت بن گئی۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ بڑی طاقتیں بھی جب عالمی رائے اور معاشی حقائق کو نظرانداز کرتی ہیں تو انہیں سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ دوسرا واقعہ نومبر 2006ء کا ہے، جب عراق جنگ میں الجھے ہوئے صدر جارج بش کو وسط مدتی انتخابات میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ریپبلکن پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو دیا اور اگلے ہی روز وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے استعفے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس انتخابی دھچکے نے بش کی باقی ماندہ صدارتی مدت میں ان کی سیاسی اور انتظامی گنجائش کو بہت محدود کر دیا۔ یوں دونوں واقعات میں ایک بیرونی جنگ کا بوجھ براہ راست اندرونی سیاست پر آ گرا۔
ان دونوں واقعات کا مشترک سبق یہ ہے کہ بیرون ملک جنگی مہمات کے اثرات بالآخر داخلی سیاست تک پہنچتے ہیں اور حکمران قیادت کو اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ فروری 2026ء میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ نے اسی تاریخی سبق کو ایک نئی شکل میں سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والا یہ تنازع ابتدائی فوجی کارروائیوں تک محدود نہ رہا، بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گیا اور ایران کے جوابی حملوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی رکاوٹوں اور تیل کی عالمی ترسیل میں خلل نے جنگ کے اثرات ہزاروں میل دور امریکہ تک پہنچا دیے۔ ایرانی تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں اور امریکی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ پڑا۔ نتیجتاً یہ جنگ امریکی عوام کے لیے محض ایک دور دراز فوجی تنازع نہیں رہی، بلکہ ان کی روزمرہ زندگی اور معاشی مشکلات کا حصہ بن گئی۔ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور معیار زندگی سے متعلق خدشات نے حکومت کے خلاف پہلے سے موجود بے چینی میں اضافہ کیا، جس کا اظہار انتخابی نتائج میں بھی دیکھنے کو ملا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئینی مدت 20 جنوری 2029ء تک ہے، لیکن وسط مدتی انتخابات میں ووٹرز نے ان کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کے خلاف واضح ردعمل دیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر کے ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا۔ یوں واشنگٹن میں محض چند نشستوں کا تبادلہ نہیں ہوا، بلکہ سیاسی طاقت کا توازن ہی تبدیل ہو گیا۔
اس تبدیلی کی اہمیت سمجھنے کے لیے امریکی آئینی نظام کو دیکھنا ضروری ہے۔ امریکہ میں صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے، جبکہ ایوان نمائندگان کے ارکان کی مدت صرف دو سال ہوتی ہے۔ اسی لیے صدارتی مدت کے وسط میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں، جنہیں مڈٹرم انتخابات کہا جاتا ہے۔ اس بار ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوا۔ ان انتخابات کے ذریعے امریکی عوام نے دراصل وائٹ ہاؤس کی معاشی، جنگی اور داخلی پالیسیوں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اب ان نتائج کا عملی اثر اس وقت سامنے آئے گا جب 3 جنوری 2027ء کو نئی کانگریس اپنا کام شروع کرے گی۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے قانون سازی، بجٹ اور بڑے حکومتی منصوبوں کی منظوری پہلے جیسی آسان نہیں رہے گی۔ انہیں اب اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے حزب اختلاف کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔ اگرچہ صدر کا ویٹو کا اختیار بدستور برقرار رہے گا، لیکن کانگریس کی دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت ان کے فیصلوں پر مؤثر نگرانی کر سکے گی۔ بالخصوص قائمہ کمیٹیوں کا کنٹرول ڈیموکریٹس کو حکومتی اخراجات، کابینہ کی کارکردگی اور انتظامی اقدامات کی چھان بین کا موقع فراہم کرے گا۔ وہ حکام کو سماعتوں میں طلب کرنے، سرکاری دستاویزات حاصل کرنے اور مختلف معاملات کی تحقیقات کے ذریعے حکومت سے جواب طلب کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں اکثریت صدر کے لیے اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا عمل بھی مشکل بنا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں، کابینہ کے ارکان اور دیگر اہم عہدیداروں کی نامزدگی صدر کا اختیار ہے، لیکن ان کی توثیق سینیٹ کرتی ہے، چنانچہ ڈیموکریٹس کو نامزد امیدواروں کی منظوری روکنے یا انہیں مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
اس طرح ٹرمپ کو اپنی باقی صدارتی مدت میں ایک ایسی کانگریس کا سامنا کرنا پڑے گا جو نہ صرف ان کی پالیسیوں کی نگرانی کرے گی بلکہ ان کے اہم سیاسی و انتظامی فیصلوں کو بھی چیلنج کر سکے گی۔ اس صورت حال میں صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا امکان بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ امریکی آئین کے تحت اگر ایوان نمائندگان سادہ اکثریت یعنی 218 ووٹوں سے مواخذے کی منظوری دے دے اور سینیٹ دو تہائی اکثریت سے انہیں عہدے سے ہٹا دے، تو نائب صدر جے ڈی وینس خود بخود صدر بن جائیں گے اور ٹرمپ کی باقی مدت پوری کریں گے۔ آئین کہتا ہے کہ صدر کے ہٹائے جانے، موت یا استعفے کی صورت میں نائب صدر صدر بنے گا۔ مڈٹرم کے بعد مواخذے کا پہلا مرحلہ سیاسی طور پر ممکن ہو گیا ہے، دوسرا بہت مشکل ہے۔ گنتی کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوان میں 235 نشستیں جیت لی تھیں، جو 218 کے ہندسے سے زیادہ ہیں۔ لیکن سینیٹ میں ان کے پاس 54 نشستیں ہیں، جبکہ ہٹانے کے لیے 67 چاہئیں۔ یعنی مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم 13 ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت بھی چاہیے ہوگی، جو اس وقت نظر نہیں آ رہی۔
تاہم، صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سیاست میں امریکی اثرورسوخ میں آنے والی کمی کو امریکی طاقت کے خاتمے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ ۔ عالمی معیشت میں امریکہ کا حصہ اب بھی غیرمعمولی ہے 2024ء کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً 26 فیصد امریکہ سے وابستہ تھا۔ اس کی فوجی برتری، جدید ٹیکنالوجی، ڈالر کی عالمی حیثیت اور وسیع تجارتی و سفارتی نیٹ ورک اسے بدستور دنیا کی ایک بڑی طاقت بنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ امریکہ جلد اپنی عالمی برتری کھو دے گا یا چین فوری طور پر اس کی جگہ لے لے گا۔ البتہ آنے والی دنیا میں دیگر عالمی قوتوں کا کردار بھی بڑھے گا اور واشنگٹن کو عالمی فیصلوں میں ان کے مفادات اور ترجیحات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہے گا۔ طاقت کے اسی بدلتے ہوئے عالمی توازن میں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔ اب کسی ایک شخصیت پر انحصار کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینا دانش مندی نہیں۔ پاکستان کو اپنی سفارت کاری کا محور جذباتی وابستگیوں کے بجائے قومی مفادات، معاشی ضروریات اور سلامتی کے تقاضوں کو بنانا ہوگا۔